دل چاہت سے خالی ہے

دل چاہت سے خالی ہے
یہ کیسی خوشحالی ہے


پہلے کانہا کالے تھے
اب رادھا بھی کالی ہے


آگ نہیں ہے چولہوں میں
کہنے کو دیوالی ہے


عشق مرض کی ایک دوا
ہم نے آج نکالی ہے


جس نے مسلا پھولوں کو
باغوں کا اب مالی ہے


ہم نے اپنی بھی صورت
اس جیسی ہی بنا لی ہے


بکنے پر ہیں آمادہ
قیمت اور گرا لی ہے


بستی نے ندیاں کھا لیں
جمنا جی اب نالی ہے


بادل چھنٹنے والا ہے
دھوپ نکلنے والی ہے


ہم کو ڈر ہے بگولوں کا
اور ہوا متوالی ہے