Makhdoom Munawwar

مخدوم منور

مخدوم منور کی غزل

    ہر شب ایک ہی خواب سے الجھا رہتا ہوں

    ہر شب ایک ہی خواب سے الجھا رہتا ہوں میں دریا ہوں پھر بھی پیاسا رہتا ہوں دن کی فصل کٹے تو شام ڈھلے اکثر خوابوں کی دیوار سے چپکا رہتا ہوں ہوا کی زد پہ میں اک ایسا سورج ہوں شام سے ہی رستے پہ رکھا رہتا ہوں چلتے چلتے دریا جب تھک جاتے ہیں یاد کے گہرے ساگر میں ڈوبا رہتا ہوں سوچ کی ...

    مزید پڑھیے

    سوچ کا اک جلتا سا دیا ہے

    سوچ کا اک جلتا سا دیا ہے سویا ہوا دکھ جاگ اٹھا ہے چہرہ چہرہ بوجھ تھکن کا آدھے رستے پر بیٹھا ہے گہری یادوں کا سورج بھی دھیرے دھیرے ڈوب چلا ہے آگ لگا کر اپنے گھر کا کوئی تماشا دیکھ رہا ہے خالی ہاتھ اور خالی چہرے پانی رستہ ڈھونڈ رہا ہے کرنوں کی متوالی فضا میں سورج سا اک تھال گڑا ...

    مزید پڑھیے