ہر شب ایک ہی خواب سے الجھا رہتا ہوں
ہر شب ایک ہی خواب سے الجھا رہتا ہوں
میں دریا ہوں پھر بھی پیاسا رہتا ہوں
دن کی فصل کٹے تو شام ڈھلے اکثر
خوابوں کی دیوار سے چپکا رہتا ہوں
ہوا کی زد پہ میں اک ایسا سورج ہوں
شام سے ہی رستے پہ رکھا رہتا ہوں
چلتے چلتے دریا جب تھک جاتے ہیں
یاد کے گہرے ساگر میں ڈوبا رہتا ہوں
سوچ کی گلیوں میں آوارہ پھرتا ہوا
گھر کے دروازے پر تنہا رہتا ہوں
شاید کوئی مجھے جگانے آ جائے
اس خواہش میں پہروں سویا رہتا ہوں
روشنیوں کا گھر بھی نہیں ملتا مخدومؔ
سورج کا سایا ہوں بھاگا رہتا ہوں