Makhdoom Munawwar

مخدوم منور

مخدوم منور کے تمام مواد

2 غزل (Ghazal)

    ہر شب ایک ہی خواب سے الجھا رہتا ہوں

    ہر شب ایک ہی خواب سے الجھا رہتا ہوں میں دریا ہوں پھر بھی پیاسا رہتا ہوں دن کی فصل کٹے تو شام ڈھلے اکثر خوابوں کی دیوار سے چپکا رہتا ہوں ہوا کی زد پہ میں اک ایسا سورج ہوں شام سے ہی رستے پہ رکھا رہتا ہوں چلتے چلتے دریا جب تھک جاتے ہیں یاد کے گہرے ساگر میں ڈوبا رہتا ہوں سوچ کی ...

    مزید پڑھیے

    سوچ کا اک جلتا سا دیا ہے

    سوچ کا اک جلتا سا دیا ہے سویا ہوا دکھ جاگ اٹھا ہے چہرہ چہرہ بوجھ تھکن کا آدھے رستے پر بیٹھا ہے گہری یادوں کا سورج بھی دھیرے دھیرے ڈوب چلا ہے آگ لگا کر اپنے گھر کا کوئی تماشا دیکھ رہا ہے خالی ہاتھ اور خالی چہرے پانی رستہ ڈھونڈ رہا ہے کرنوں کی متوالی فضا میں سورج سا اک تھال گڑا ...

    مزید پڑھیے

1 نظم (Nazm)

    گرم ہاتھوں میں شاخ

    ان کے ذہن ان کی پرانی لکیروں میں ڈوب رہے ہیں وہ اپنی ڈوبتی سانسوں کے اندھیرے کمروں میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ان کی سوچ کا زخمی کوہان مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے لرزیدہ ہے انہیں نئے بتوں سے نفرت ہے وہ پرانے بتوں کی پرستش میں نئے پیدا ہونے والے بچے کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں کہ آزادی کی ...

    مزید پڑھیے