گرم ہاتھوں میں شاخ
ان کے ذہن ان کی پرانی لکیروں میں ڈوب رہے ہیں وہ اپنی ڈوبتی سانسوں کے اندھیرے کمروں میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ان کی سوچ کا زخمی کوہان مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے لرزیدہ ہے انہیں نئے بتوں سے نفرت ہے وہ پرانے بتوں کی پرستش میں نئے پیدا ہونے والے بچے کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں کہ آزادی کی ...