ہر شب ایک ہی خواب سے الجھا رہتا ہوں
ہر شب ایک ہی خواب سے الجھا رہتا ہوں میں دریا ہوں پھر بھی پیاسا رہتا ہوں دن کی فصل کٹے تو شام ڈھلے اکثر خوابوں کی دیوار سے چپکا رہتا ہوں ہوا کی زد پہ میں اک ایسا سورج ہوں شام سے ہی رستے پہ رکھا رہتا ہوں چلتے چلتے دریا جب تھک جاتے ہیں یاد کے گہرے ساگر میں ڈوبا رہتا ہوں سوچ کی ...