ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئے
ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئے ہم بھی ہیں اے دل بہاراں کی قسم کھائے ہوئے خبط ہے اے ہم نشیں عقل حریفان بہار ہے خزاں ان کی انہیں آئینہ دکھلائے ہوئے کیا ہے ذکر آتش و آہن کہ غداران گل مارتے ہیں ہاتھ انگاروں پہ گھبرائے ہوئے زندگی کی قدر سیکھی شکریہ تیغ ستم ہاں ہمیں تھے ...