Majrooh Sultanpuri

مجروح سلطانپوری

ہندوستان کے ممتاز ترین ترقی پسند غزل گو شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ دادا صاحب پھالکے اعزاز سے سرفراز

One of the most lyrical of ghazal poets associated with progressive movement.Outstanding film lyricist. Recipient of Dada Sahab Phalke award.

مجروح سلطانپوری کی غزل

    ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئے

    ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئے ہم بھی ہیں اے دل بہاراں کی قسم کھائے ہوئے خبط ہے اے ہم نشیں عقل حریفان بہار ہے خزاں ان کی انہیں آئینہ دکھلائے ہوئے کیا ہے ذکر آتش و آہن کہ غداران گل مارتے ہیں ہاتھ انگاروں پہ گھبرائے ہوئے زندگی کی قدر سیکھی شکریہ تیغ ستم ہاں ہمیں تھے ...

    مزید پڑھیے

    مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے

    مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے ترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئے وہ لجائے میرے سوال پر کہ اٹھا سکے نہ جھکا کے سر اڑی زلف چہرے پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے وہی بات جو وہ نہ کہہ سکے مرے شعر و نغمہ میں آ گئی وہی لب نہ میں جنہیں چھو سکا قدح شراب میں ...

    مزید پڑھیے

    اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائے

    اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہا نہ جائے جب تک کسی ثمر کو مرا دل کہا نہ جائے شاخوں پہ نوک تیغ سے کیا کیا کھلے ہیں پھول انداز لالہ کاریٔ قاتل کہا نہ جائے کس کے لہو کے رنگ ہیں یہ خار شوخ رنگ کیا گل کتر گئی رہ منزل کہا نہ جائے باراں کے منتظر ہیں سمندر پہ تشنہ لب احوال میزبانیٔ ساحل کہا ...

    مزید پڑھیے

    جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا

    جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا سوز جاناں دل میں سوز دیگراں بنتا گیا رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسم چمن دھیرے دھیرے نغمۂ دل بھی فغاں بنتا گیا میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا میں تو جب جانوں کہ بھر دے ساغر ہر خاص و عام یوں تو جو آیا وہی ...

    مزید پڑھیے

    آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ

    آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ ہو ہی جائے گی کوئی جینے کی تدبیر نہ دیکھ حادثے اور بھی گزرے تری الفت کے سوا ہاں مجھے دیکھ مجھے اب میری تصویر نہ دیکھ یہ ذرا دور پہ منزل یہ اجالا یہ سکوں خواب کو دیکھ ابھی خواب کی تعبیر نہ دیکھ دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار رقص کرنا ہے تو ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

    ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے نگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہے تو اے بہار گریزاں کسی چمن میں رہے مرے جنوں کی مہک تیرے پیرہن میں رہے مجھے نہیں کسی اسلوب شاعری کی تلاش تری نگاہ کا جادو مرے سخن میں رہے نہ ہم قفس میں رکے مثل بوئے گل صیاد نہ ہم مثال صبا حلقۂ رسن میں رہے کھلے ...

    مزید پڑھیے

    دست منعم مری محنت کا خریدار سہی

    دست منعم مری محنت کا خریدار سہی کوئی دن اور میں رسوا سر بازار سہی پھر بھی کہلاؤں گا آوارۂ گیسوئے بہار میں ترا دام خزاں لاکھ گرفتار سہی جست کرتا ہوں تو لڑ جاتی ہے منزل سے نظر حائل راہ کوئی اور بھی دیوار سہی غیرت سنگ ہے ساقی یہ گلوئے تشنہ تیرے پیمانے میں جو موج ہے تلوار ...

    مزید پڑھیے

    جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے

    جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے دیار شام نہیں منزل سحر بھی نہیں عجب نگر ہے یہاں دن چلے نہ رات چلے ہمارے لب نہ سہی وہ دہان زخم سہی وہیں پہنچتی ہے یارو کہیں سے بات چلے ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے ہوا اسیر ...

    مزید پڑھیے

    دست پر خوں کو کف دست نگاراں سمجھے

    دست پر خوں کو کف دست نگاراں سمجھے قتل گہہ تھی جسے ہم محفل یاراں سمجھے کچھ بھی دامن میں نہیں خار ملامت کے سوا اے جنوں ہم بھی کسے کوئے بہاراں سمجھے ٹوٹے دھاگے ہی سے کرتے ہیں رفو چاک جگر کون بے چارگیٔ سینہ فگاراں سمجھے ہاں وہ بے درد تو بیگانہ ہی اچھا یارو جو نہ توقیر غم درد گساراں ...

    مزید پڑھیے

    نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانے

    نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانے کہ ٹوٹ جاتے ہیں خود دل کے ساتھ پیمانے ملی جب ان سے نظر بس رہا تھا ایک جہاں ہٹی نگاہ تو چاروں طرف تھے ویرانے حیات لغزش پیہم کا نام ہے ساقی لبوں سے جام لگا بھی سکوں خدا جانے تبسموں نے نکھارا ہے کچھ تو ساقی کے کچھ اہل غم کے سنوارے ہوئے ہیں مے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4