جب پلک جھپکے تو منظر کا ورق بن جائے ہے
جب پلک جھپکے تو منظر کا ورق بن جائے ہے دل میں کچھ آئے نظر باہر نظر کچھ آئے ہے چپ کا سیدھا پیڑ ہے بولو تو جھکتا جائے ہے ہائے چھونے کی تمنا جو مجھے تڑپائے ہے سردیوں کی لمبی راتیں اوڑھ کر سو جائے ہے دن کے سورج کے خیالوں ہی سے دل گرمائے ہے یاد کی خوشبو سے اپنے جسم کو مہکائے ہے وہ پری ...