Mahtab Haider Naqvi

مہتاب حیدر نقوی

مہتاب حیدر نقوی کی غزل

    زندگی کیا ہے بجز وہم و گماں میرے لئے

    زندگی کیا ہے بجز وہم و گماں میرے لئے یہ زمیں جب ہو گئی بے آسماں میرے لئے وہ بدن صحرا بڑھا دیتا ہے پہلے میری پیاس اور بن جاتا ہے پھر آب رواں میرے لئے موسم دل نے بکھیرے دل کے باہر اپنے رنگ رنگ گل اس کے لئے رنگ خزاں میرے لئے شہر میں لگتی ہے پھر اک روز بجھ جاتی ہے آگ چھوڑ جاتی ہے مگر ...

    مزید پڑھیے

    اگر کوئی خلش جاوداں سلامت ہے

    اگر کوئی خلش جاوداں سلامت ہے تو پھر جہاں میں یہ طرز فغاں سلامت ہے ابھی تو بچھڑے ہوئے لوگ یاد آئیں گے ابھی تو درد دل رائگاں سلامت ہے اگرچہ اس کے نہ ہونے سے کچھ نہیں ہوتا ہمارے سر پہ مگر آسماں سلامت ہے سبھی کو شوق شہادت تو ہو گیا ہے مگر کسی کے دوش پہ سر ہی کہاں سلامت ہے ہمارے ...

    مزید پڑھیے

    دل تو اک شخص کو نخچیر بنانے میں گیا

    دل تو اک شخص کو نخچیر بنانے میں گیا ساز دل نغمۂ دلگیر بنانے میں گیا رات اک خواب جو دیکھا تو ہوا یہ معلوم دن بھی اس خواب کی تصویر بنانے میں گیا پرتو خانۂ موہوم غنیمت تھا مگر وہ بھی اک نقشۂ تعمیر بنانے میں گیا روح تو روح ہے کچھ بس نہیں اس پر لیکن یہ بدن خاک کو اکسیر بنانے میں ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے شکوہ نہ کوئی رنج ہے تنہائی کا

    تجھ سے شکوہ نہ کوئی رنج ہے تنہائی کا تھا مجھے شوق بہت انجمن آرائی کا کچھ تو آشوب ہوا اور ہوس کی ہے شکار اور کچھ کام بڑھا ہے مری بینائی کا آئی پھر نافۂ امروز سے خوشبوئے وصال کھل گیا پھر کوئی در بند پذیرائی کا میں نے پوشیدہ بھی کر رکھا ہے در پردۂ شعر اور بھرم کھل بھی گیا ہے مری ...

    مزید پڑھیے

    کن موسموں کے یارو ہم خواب دیکھتے ہیں

    کن موسموں کے یارو ہم خواب دیکھتے ہیں جنگل پہاڑ دریا تالاب دیکھتے ہیں اس آسماں سے آگے اک اور آسماں پر مہتاب سے جدا اک مہتاب دیکھتے ہیں کل جس جگہ پڑا تھا پانی کا کال ہم پر آج اس جگہ لہو کا سیلاب دیکھتے ہیں اس گل پہ آ رہی ہیں سو طرح کی بہاریں ہم بھی ہزار رنگوں کے خواب دیکھتے ...

    مزید پڑھیے

    یوں ہی سر چڑھ کے ہر اک موج بلا بولے گی

    یوں ہی سر چڑھ کے ہر اک موج بلا بولے گی ہم جو خاموش رہیں گے تو ہوا بولے گی بولتا رہتا ہے جو آج سر شاخ انا چپ سی لگ جائے گی جس روز فنا بولے گی تجھ سے امید کسے ہے مری لیلائے حیات محمل ناز سے کیا چشم عطا بولے گی وہ تو رہتا ہے یوں ہی اپنے گلستان میں گم لب خاموش سے کیا برگ حنا بولے ...

    مزید پڑھیے

    اب رہے یا نہ رہے کوئی ملال دنیا

    اب رہے یا نہ رہے کوئی ملال دنیا کھینچتی ہے مرا دل چشم غزال دنیا لو اترتی ہے بدن سے مرے خاکی پوشاک لو ہوا جاتا ہوں میں صرف کمال دنیا مٹ رہے ہیں مرے اندر کے سبھی نقش و نگار بن رہے ہیں مرے باہر خد و خال دنیا تیرے چہرے کا فسوں بھی نظر آئے تو کہیں کوئی آئینا دکھاتا ہے جمال دنیا بس ...

    مزید پڑھیے

    کن بستیوں کے یارو ہم خواب دیکھتے ہیں

    کن بستیوں کے یارو ہم خواب دیکھتے ہیں جنگل پہاڑ دریا تالاب دیکھتے ہیں بیگانی لگ رہیں ہیں موسم کی بارشیں بھی مہتاب صورتوں کو بے آب دیکھتے ہیں سچ مے میں جھوٹ پانی اتنا ملا دیا ہے اب جس کو دیکھتے ہیں سیراب دیکھتے ہیں اک زلف کے بھنور سے جیسے نکل کے آئے اک جسم کی ندی میں گرداب ...

    مزید پڑھیے

    وہ بستیاں وہ بام وہ در کتنی دور ہیں

    وہ بستیاں وہ بام وہ در کتنی دور ہیں مہتاب تیرے چاند نگر کتنی دور ہیں وہ خواب جو غبار گماں میں نظر نہ آئے وہ خواب تجھ سے دیدۂ تر کتنی دور ہیں بام خیال یار سے اترے تو یہ کھلا ہم سے ہمارے شام و سحر کتنی دور ہیں اے آسمان ان کو جہاں ہونا چاہئے اس خاک سے یہ خاک بسر کتنی دور ہیں بیٹھے ...

    مزید پڑھیے

    مٹھیوں میں ریت بھر لی ہے بتاؤں کس طرح

    مٹھیوں میں ریت بھر لی ہے بتاؤں کس طرح رات دن آب رواں سے منہ چھپاؤں کس طرح رقص کرتے ہیں بگولے میرے تیرے درمیاں ریت پر دریاؤں کا نقشہ بناؤں کس طرح وہ ادھر اس پار کے منظر بلاتے ہیں مجھے روشنی کے شہر سے پیچھا چھڑاؤں کس طرح یاد سب کچھ ہے مگر کچھ بھی نظر آتا نہیں پتلیوں میں تیرے چہرے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4