Mahshar Inayati

محشر عنایتی

رام پور طرز واسلوب کے نمائندہ شاعر

One of the most prominent poets representing Rampur style

محشر عنایتی کی غزل

    نیند ان کی اچاٹ ہو گئی ہے

    نیند ان کی اچاٹ ہو گئی ہے آنکھوں میں شراب ابل پڑی ہے بے چین ہے دل اچاٹ ہے دل بستی بس کر اجڑ گئی ہے کلیوں کی صدا بھی سنتے جاؤ افسانہ قریب ختم ہی ہے اک گھن سا لگا ہوا ہے جی کو جیسے کوئی چیز کھو گئی ہے غم اتنے اٹھاؤں گا کہ دنیا خود کو کہنے لگے یہ آدمی ہے گم ہوش نظر اداس دل سرد محشرؔ ...

    مزید پڑھیے

    نظر حیرت زدہ سی ہے قدم بہکے ہوئے سے ہیں

    نظر حیرت زدہ سی ہے قدم بہکے ہوئے سے ہیں شباب آیا ہے ان پر اور ہم بہکے ہوئے سے ہیں ابھی ان کے کرم کی بات اپنے حسن ظن تک ہے مگر امید واران کرم بہکے ہوئے سے ہیں وفا کے سلسلے میں ہو ہی جاتی ہے غلط فہمی وہ بہکائے گئے سے ہیں نہ ہم بہکے ہوئے سے ہیں بڑے ذی ہوش بنتے تھے مئے عشرت کے ...

    مزید پڑھیے

    سنوارے ہے گیسو تو دیکھا کرے ہے

    سنوارے ہے گیسو تو دیکھا کرے ہے وہ اب دل کو آئینہ جانا کرے ہے نہ باتیں کرے ہے نہ دیکھا کرے ہے مگر میرے بارے میں سوچا کرے ہے محبت سے وہ دشمنی ہے کہ دنیا ہوا بھی لگے ہے تو چرچا کرے ہے تمہاری طرح بے وفا کون ہوگا ہمیں وقت اب تک پکارا کرے ہے گزرتے تو ہم بھی ہیں اس کی گلی سے سنا ہے وہ ...

    مزید پڑھیے

    دل تک لرز اٹھا ہے ترے التفات پر

    دل تک لرز اٹھا ہے ترے التفات پر اب التفات ہے بھی تو تہمت حیات پر لکھیے تو لکھتے رہیے کتابیں تمام عمر وہ تبصرے ہوئے ہیں مری بات بات پر تاریک ہو نہ جائے کہیں محفل حیات اب آندھیوں کا زور ہے شمع حیات پر دیکھے ہوئے سے خواب ہیں چونکیں بھی کس لئے کچھ مسکرا تو لیتے ہیں ہم حادثات پر ہر ...

    مزید پڑھیے

    فکر تجدید روایات کہن آج بھی ہے

    فکر تجدید روایات کہن آج بھی ہے حق بیانی کا صلہ دار و رسن آج بھی ہے پاسبانان چمن کی روش کورانہ وجہ رسوائی آئین چمن آج بھی ہے مے پندار کے دو گھونٹ کی برداشت کسے تھا جو پہلے وہ بہکنے کا چلن آج بھی ہے رہنما ہیں کہ سر راہ اڑے بیٹھے ہیں کارواں ہے کہ سزاوار محن آج بھی ہے وقت کے نبض ...

    مزید پڑھیے

    دل کو رہ رہ کے انتظار سا ہے

    دل کو رہ رہ کے انتظار سا ہے کیا کسی سمت کچھ غبار سا ہے دیکھ کر کشمکش مناظر کی آنکھ اٹھانا بھی ناگوار سا ہے زلف گیتی سنوارنے والے سادگی میں بڑا سنگھار سا ہے اک انہیں دیکھو اک مجھے دیکھو وقت کتنا کرشمہ کار سا ہے جانے کیوں ہر فسانۂ ماضی قصۂ موسم بہار سا ہے آپ محشرؔ سے مل کے ...

    مزید پڑھیے

    ہار کر ہجر ناتمام سے ہم

    ہار کر ہجر ناتمام سے ہم چپکے بیٹھے ہوئے ہیں شام سے ہم کیسے اترا رہے ہیں اپنی جگہ ہو کے منسوب ان کے نام سے ہم بس کہ دیوانہ ہی کہیں گے لوگ آشنا ہیں مذاق عام سے ہم ان کی آنکھوں کو جام کہہ تو دیا اب نگاہیں لڑائیں جام سے ہم رخ پہ زلفیں بکھیرے آ جاؤ لو لگائے ہوئے ہیں شام سے ہم نام ...

    مزید پڑھیے

    بے رنگ تھے آرزو کے خاکے

    بے رنگ تھے آرزو کے خاکے وہ دیکھ رہے ہیں مسکرا کے یہ کیا ہے کہ ایک تیر انداز جب تاکے ہمارے دل کو تاکے اب سوچ رہے ہیں کس کا در تھا ہم سنبھلے ہی کیوں تھے ڈگمگا کے اک یہ بھی ادائے دلبری ہے ہر بات ذرا گھما پھرا کے دل ہی کو مٹائیں اب کہ دل میں پچھتائے ہیں بستیاں بسا کے ہم وہ کہ سدا ...

    مزید پڑھیے

    ہم سے گمراہ زمانے نے کہاں دیکھے ہیں

    ہم سے گمراہ زمانے نے کہاں دیکھے ہیں ہم نے مٹتے ہوئے قدموں کے نشاں دیکھے ہیں آپ نے دیکھ کے ہر اک کو نظر پھیری ہے آپ نے صاحب احساس کہاں دیکھے ہیں زندگی سیدھی سی اک راہ نہیں ہے اے دوست اس میں جو موڑ ہیں وہ تو نے کہاں دیکھے ہیں دل جہاں لرزے امیدوں کا تصور کر کے میں نے امید کے آثار ...

    مزید پڑھیے

    مغنیوں کو بلاؤ کہ نیند آ جائے

    مغنیوں کو بلاؤ کہ نیند آ جائے کہو وہ گیت سناؤ کہ نیند آ جائے چلے بھی آؤ مرے جیتے جی اب اتنا بھی نہ انتظار بڑھاؤ کہ نیند آ جائے چراغ عمر گذشتہ بجھا دیا کس نے وہی چراغ جلاؤ کہ نیند آ جائے حقیقتوں نے تو کھل کھل کے نیند اڑا دی ہے نئے طلسم بناؤ کہ نیند آ جائے سکوں نصیبو ادھر آؤ اور ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3