ترے سلوک تغافل سے ہو کے سودائی
ترے سلوک تغافل سے ہو کے سودائی چلا ہوں میں تو کچھ آگے چلی ہے رسوائی نیا نیا ہے ابھی جذبۂ خود آرائی خدا کرے کہ نہ آئے خیال یکتائی طبیعتوں میں بڑا اختلاف ہوتا ہے مجھے تو عرض تمنا پہ شرم سی آئی حیات عشق کے یہ پیچ و خم نشیب و فراز انہیں کا نام ہے شاید کسی کی انگڑائی جو آج ذکر چلا ...