Mahshar Inayati

محشر عنایتی

رام پور طرز واسلوب کے نمائندہ شاعر

One of the most prominent poets representing Rampur style

محشر عنایتی کی غزل

    ترے سلوک تغافل سے ہو کے سودائی

    ترے سلوک تغافل سے ہو کے سودائی چلا ہوں میں تو کچھ آگے چلی ہے رسوائی نیا نیا ہے ابھی جذبۂ خود آرائی خدا کرے کہ نہ آئے خیال یکتائی طبیعتوں میں بڑا اختلاف ہوتا ہے مجھے تو عرض تمنا پہ شرم سی آئی حیات عشق کے یہ پیچ و خم نشیب و فراز انہیں کا نام ہے شاید کسی کی انگڑائی جو آج ذکر چلا ...

    مزید پڑھیے

    لب پہ اک نام ہمیشہ کی طرح

    لب پہ اک نام ہمیشہ کی طرح اور کیا کام ہمیشہ کی طرح دن اگر کوئی گزارے بھی تو کیا پھر وہی شام ہمیشہ کی طرح دیکھ کر ان کو مرے چہرے کا رنگ بر سر عام ہمیشہ کی طرح کوچہ گردوں پہ ہی پابندی ہے جلوۂ بام ہمیشہ کی طرح دل وہی شہر تمنا بہ کنار اور ناکام ہمیشہ کی طرح حال کیا اپنا بتائے ...

    مزید پڑھیے

    نیند کی آنکھ مچولی سے مزا لیتے ہیں

    نیند کی آنکھ مچولی سے مزا لیتے ہیں پھینک دیتے ہیں کتابوں کو اٹھا لیتے ہیں بھولا بھٹکا سا مسافر کوئی شاید مل جائے دو قدم چلتے ہیں آواز لگا لیتے ہیں ابر کے ٹکڑوں میں خورشید گھرا ہو جیسے کہیں کہتے ہیں کہیں بات چھپا لیتے ہیں آندھیاں تیز چلیں گی تو اندھیرا ہوگا خود بھی ایسے میں ...

    مزید پڑھیے

    آج تک دامن نہ بھیگا تھا بھگونا پڑ گیا

    آج تک دامن نہ بھیگا تھا بھگونا پڑ گیا کس نے کس کا ساتھ چھوڑا ہے کہ رونا پڑ گیا درد کا ہر ایک کے احساس کانٹا ہی سہی یہ وہ کانٹا ہے جسے دل میں چبھونا پڑ گیا ہاتھ جب آئی نہیں منزل تو جی گھبرا اٹھا اور کچھ بھٹکے ہوؤں کے ساتھ ہونا پڑ گیا روشنی کچھ یوں گھٹی تنہائی کچھ ایسی بڑھی اپنے ...

    مزید پڑھیے

    زندگی سے تھک کے اس کوچہ میں ہوں بیٹھا ہوا

    زندگی سے تھک کے اس کوچہ میں ہوں بیٹھا ہوا جیسے اپنے وقت کا صوفی بڑا پہنچا ہوا جس طرح بادل برس جائیں نکھر جانے کے بعد آج آنسو بہہ کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا جانے کب سے دھوپ میں پیاسے پڑے تھے خار دشت میرے تلووں کا سہارا مل گیا اچھا ہوا شہر بے احساس میں میری صدائے احتجاج تیر ہو ...

    مزید پڑھیے

    مسرتوں کی ساعتوں میں اختصار کر لیا

    مسرتوں کی ساعتوں میں اختصار کر لیا حیات غم کو ہم نے اور سازگار کر لیا قسم جب اس نے کھائی ہم نے اعتبار کر لیا ذرا سی دیر زندگی کو خوش گوار کر لیا وہ آج چاہتے تھے بات کچھ بڑھے مگر وہ ہم کہ بات بات پر سکوت اختیار کر لیا کہو کہ مہر صبح تاب آئے ہو کے بے نقاب کوئی بس آ چکا کسی کا انتظار ...

    مزید پڑھیے

    فریبوں سے نہ بہلے گا دل آشفتہ کام اپنا

    فریبوں سے نہ بہلے گا دل آشفتہ کام اپنا بظاہر مسکرا کر دیکھنے والے سلام اپنا کسی کی بزم کے حالات نے سمجھا دیا مجھ کو کہ جب ساقی نہیں اپنا تو مے اپنی نہ جام اپنا اگر اپنے دل بیتاب کو سمجھا لیا میں نے تو یہ کافر نگاہیں کر سکیں گی انتظام اپنا مکمل کر گیا جل کر حیات غم کو پروانہ اور ...

    مزید پڑھیے

    خوش ہیں بہت مزاج زمانہ بدل کے ہم

    خوش ہیں بہت مزاج زمانہ بدل کے ہم لیکن یہ شعر کس کو سنائیں غزل کے ہم اے مصلحت چلیں بھی کہاں تک سنبھل کے ہم انداز کہہ رہے ہیں کہ انساں ہیں کل کے ہم شاید عروس زیست کا گھونگھٹ الٹ گیا اب ڈھونڈنے لگے ہیں سہارے اجل کے ہم بدلیں ذرا نگاہ کے انداز آپ بھی اٹھے ہیں کچھ اصول وفا کے بدل کے ...

    مزید پڑھیے

    کسی کی آنکھوں کا ذکر چھیڑیں عجیب کچھ پر وقار آنکھیں

    کسی کی آنکھوں کا ذکر چھیڑیں عجیب کچھ پر وقار آنکھیں مگر خدا واسطہ نہ ڈالے بڑی ہی بے اعتبار آنکھیں نمائشی رسم پردہ داری رہے گی جب تک تو یہ بھی ہوگا نقاب سرکے گی جب ذرا بھی اٹھیں گی بے اختیار آنکھیں جہاں جہاں ربط چشم و دل ہے وہاں وہاں بات چل رہی ہے نہیں تو بزم خموشاں میں ہزار دل ...

    مزید پڑھیے

    نہ غیر ہی مجھے سمجھو نہ دوست ہی سمجھو

    نہ غیر ہی مجھے سمجھو نہ دوست ہی سمجھو مرے لیے یہ بہت ہے کہ آدمی سمجھو میں رہ رہا ہوں زمانے میں سائے کی صورت جہاں بھی جاؤ مجھے اپنے ساتھ ہی سمجھو ہر ایک بات زباں سے کہی نہیں جاتی جو چپکے بیٹھے ہیں کچھ ان کی بات بھی سمجھو گزر تو سکتی ہیں راتیں جلا جلا کے چراغ مگر یہ کیا کہ اندھیرے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3