غنچۂ دل کہ بکھرتا بھی دکھائی نہ دیا
غنچۂ دل کہ بکھرتا بھی دکھائی نہ دیا ایسا بکھرا کہ اشارا بھی دکھائی نہ دیا کس کے ہمراہ نظر آتا تھا تنہا تنہا کس سے بچھڑا ہوں کہ تنہا بھی دکھائی نہ دیا روشنی کی وہ چکا چوندھ تھی آنکھوں میں کہ ہم شہر سے نکلے تو صحرا بھی دکھائی نہ دیا سرد مہریٔ زمانہ کی سلگتی ہوئی آگ کیا بلا تھی کہ ...