Mahmood Ayaz

محمود ایاز

اپنے ادبی رسالے ’سوغات‘ کے لیے معروف

Famous for his path-breaking literary magazine Saughaat.

محمود ایاز کے تمام مواد

12 غزل (Ghazal)

    پلک جھپکتے میں کٹتے ہیں روز و شب مہ و سال (ردیف .. ے)

    پلک جھپکتے میں کٹتے ہیں روز و شب مہ و سال جو فاصلے تھے من و تو کے درمیاں نہ رہے وفا رفاقت یک عمر کچھ نہیں لیکن یہ چاہتا ہوں کہ روؤں بہت گلے مل کے مصاف زیست میں وہ رن پڑا ہے آج کے دن نہ میں تمہاری تمنا ہوں اور نہ تم میرے رفیق و یار کہاں اے حجاب تنہائی بس اپنے چہرے کو تکتا ہوں آئینہ ...

    مزید پڑھیے

    چشم مشتاق نے یہ خواب عجب دیکھے ہیں

    چشم مشتاق نے یہ خواب عجب دیکھے ہیں دل کے آئینے میں سو عکس ہیں سب تیرے ہیں زندگی سے بھی نباہیں تجھے اپنا بھی کہیں اس کشاکش میں شب و روز گزر جاتے ہیں خانۂ دل میں تھا کیا کیا نہ امیدوں کا ہجوم خانہ ویراں ہے تو راضی بہ رضا بیٹھے ہیں دولت غم بھی خس و خاک زمانہ میں گئی تم گئے ہو تو مہ و ...

    مزید پڑھیے

    دن کو کار دراز دہر رہا (ردیف .. ی)

    دن کو کار دراز دہر رہا رات خوابوں کی وادیوں میں کٹی چاند خاموش جا رہا تھا کہیں ہم نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی ساعت دید تیری عمر ہی کیا ابھی آئی نہ تھی کہ بیت گئی برگ آوارہ سے کوئی پوچھے بوئے گل کس کی جستجو میں گئی کس کا نغمہ ہے دل کی دھڑکن میں کس کی آواز پا سکوت بنی

    مزید پڑھیے

    کرشمہ ساز ازل کیا طلسم باندھا ہے

    کرشمہ ساز ازل کیا طلسم باندھا ہے پریدہ رنگ ہے ہر نقش پھر بھی پیارا ہے تو رو بہ رو ہو تو اے روئے یار تجھ سے کہیں وہ حرف غم کہ حریف غم زمانہ ہے کبھی تو ہم پہ اٹھے چشم آشنا کی طرح وہ اک نگاہ کہ صد گردش زمانہ ہے ہماری آنکھوں سے نیرنگئ جہاں دیکھو ہماری آنکھوں میں اک عمر صد تماشا ...

    مزید پڑھیے

    غم دل ہمرہی کرے نہ کرے

    غم دل ہمرہی کرے نہ کرے انجم صبح ہم تو ڈوب چلے خامشی کس کے نقش پا پہ مٹی راستے کس کو ڈھونڈنے نکلے چاند تارے بھی شب گزیدہ ہیں سر مژگاں کوئی چراغ جلے پاس تھی منزل مراد مگر ہم غم رفتگاں کے ساتھ رہے شمع شب تاب ایک رات جلی جلنے والے تمام عمر جلے

    مزید پڑھیے

تمام

18 نظم (Nazm)

    ترغیب

    چلمنوں کے اس طرف جگمگاتی زندگی سامنے آ کر نقاب رخ کو سرکاتی ہوئی مجھ سے ہنس کر کہہ رہی ہے میرا دامن تھام لے ڈوبتے تارے نمود صبح سے سہمے ہوئے ملگجی دھندلاہٹوں میں جھلملا کر کھو گئے جاگتی آنکھوں میں اک گزری ہوئی دنیا لیے اس طرف میں ہوں مرے ماضی کی بڑھتی دھند ہے دھندلے دھندلے نقش ...

    مزید پڑھیے

    اسپتال کا کمرہ

    تمام شب کی دکھن، بے کلی، سبک خوابی نمود صبح کو درماں سمجھ کے کاٹی ہے رگوں میں دوڑتے پھرتے لہو کی ہر آہٹ اجل گرفتہ خیالوں کو آس دیتی ہے مگر وہ آنکھ جو سب دیکھتی ہے ہنستی ہے افق سے صبح کی پہلی کرن ابھرتی ہے تمام رات کی فریاد اک سکوت میں چپ تمام شب کی دکھن، بے کلی، سبک خوابی حریری ...

    مزید پڑھیے

    این نکتہ کہ ہستم من

    تم نے مجھ سے کوئی اقرار‌‌ رفاقت نہ کیا یہ نہ کہا تم سے بچھڑ جاؤں تو زندہ نہ رہوں میں نے تمہیں زیست کا سرمایہ مرا حاصل یک عمر‌ تمنا نہ کہا اس قدر جھوٹ سے دہشت زدہ تھے ہم کہ کوئی سچ نہ کہا میں نے بس اتنا کہا دیکھو ہم اور تم اس آگ کا حصہ ہیں جو خاشاک کی مانند جلاتی ہے ہمیں تم نے بس ...

    مزید پڑھیے

    نالہ سرمایۂ یک عالم

    کوئی بھولی ہوئی صورت کوئی بسرا ہوا خواب شب کے سناٹے میں کھلنے لگے احساس کے باب کوئی نغمہ مری خاموش محبت کے رباب یہ امیدوں کی کشاکش یہ تمناؤں کے جال جانے کس راہ سے گزرے گی امیدوں کی برات فاصلے بڑھتے گئے شوق سبک گام کے ساتھ تو ہی بول اے مری محرومی کی بڑھتی ہوئی رات کتنی دور اور ہے ...

    مزید پڑھیے

    دوزخ

    موج صہبا میں تمنا کے سفینے کھو کر نغمہ و رقص کی محفل سے جو گھبرا کے اٹھا ایک ہنستی ہوئی گڑیا نے اشارے سے کہا تم جو چاہو تو میں شب بھر کی رفاقت بخشوں جنبش ابرو نے الفاظ کی زحمت بھی نہ دی نیم وا آنکھوں میں اک دعوت خاموش لیے یوں سمٹ کر مری آغوش میں آئی جیسے بھری دنیا میں بس اک گوشۂ ...

    مزید پڑھیے

تمام