Mahboob Khan Raunaq

محبوب خاں رونق

  • 1912 - 1973

محبوب خاں رونق کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    دعویٰ ہے آزمائیے چاہے جہاں مجھے

    دعویٰ ہے آزمائیے چاہے جہاں مجھے ہوں با وفا قبول ہے ہر امتحاں مجھے فرسودہ اہل عشق کے افسانے ہو گئے لکھنی ہے طرز نو سے مری داستاں مجھے زاہد نے ذکر خلد میں کی تھی نشاں دہی معلوم میکدہ تھا نہ کوئے بتاں مجھے ہر رہ گزر پہ چھوڑے ہیں کچھ ایسے نقش پا کہ ڈھونڈھتا رہے گا ہر اک کارواں ...

    مزید پڑھیے

    رخ جو بدلا غم زندگی نے

    رخ جو بدلا غم زندگی نے مجھ کو اپنا لیا مے کشی نے موج طوفاں میں تھا کون اپنا آ کے ساحل پہ پوچھا سبھی نے کھل ہی جاتا تھا راز خدائی وہ تو روکا حد بندگی نے شام سے صبح تک کوئی پوچھے کیا دیا شمع کو روشنی نے ورنہ پہچانتا کون رونقؔ مجھ کو رسوا کیا شاعری نے

    مزید پڑھیے

    سنگ دل ہے اثر اس پہ ہوگا نہیں قصۂ غم سنانے سے کیا فائدہ

    سنگ دل ہے اثر اس پہ ہوگا نہیں قصۂ غم سنانے سے کیا فائدہ کم تو ہوتی نہیں سوزش زندگی آنسوؤں میں نہانے سے کیا فائدہ راز رکھتے ہو کیوں صاف فرمائیے دل کی باتیں چھپانے سے کیا فائدہ آس دے دے کے مایوس کرتے ہو کیوں یوں کسی کو ستانے سے کیا فائدہ اپنی تشنہ لبی کی شکایت نہیں یہ تو ساقی گری ...

    مزید پڑھیے

    کیا ستم ہے کہ ستم ہم پہ وہ کر جاتے ہیں

    کیا ستم ہے کہ ستم ہم پہ وہ کر جاتے ہیں اپنے سائے سے جو تنہائی میں ڈر جاتے ہیں لوٹ کے آنا ہی پڑتا ہے انہیں سینکڑوں بار تیرے کوچے سے جو اک بار گزر جاتے ہیں غم کے ماروں کو بھی آتی ہے کبھی خود پہ ہنسی کبھی صحرا میں بھی کچھ پھول بکھر جاتے ہیں یاد رہ جاتے ہیں احباب کے کچھ لطف و کرم دن ...

    مزید پڑھیے