سنگ دل ہے اثر اس پہ ہوگا نہیں قصۂ غم سنانے سے کیا فائدہ
سنگ دل ہے اثر اس پہ ہوگا نہیں قصۂ غم سنانے سے کیا فائدہ
کم تو ہوتی نہیں سوزش زندگی آنسوؤں میں نہانے سے کیا فائدہ
راز رکھتے ہو کیوں صاف فرمائیے دل کی باتیں چھپانے سے کیا فائدہ
آس دے دے کے مایوس کرتے ہو کیوں یوں کسی کو ستانے سے کیا فائدہ
اپنی تشنہ لبی کی شکایت نہیں یہ تو ساقی گری کی بھی توہین ہے
مے کشی کا تقاضا سمجھئے ذرا قطرہ-قطرہ چکھانے سے کیا فائدہ
خوف صیاد ہے بجلیوں کا ہے ڈر نا موافق ہوا ہے فضا پر خطر
جب مخالف ہے اتنے زمیں آسماں پھر نشیمن بنانے سے کیا فائدہ
آمد فصل گل ہو مبارک تمہیں اہل گلشن مگر یہ تو فرمائیے
جو کسی کے گلے کی نہ زینت بنے ایسی کلیاں کھلانے سے کیا فائدہ
چاندنی کی طرح وجہ فرحت بنے حسن سے کچھ ضیائے محبت ملے
برق بن کر جلا دے جو دنیا مری ایسا جلوہ دکھانے سے کیا فائدہ
راز اس میں نہیں کوئی اس کے سوا میں جو خاموش ہوں رونقؔ بے نوا
جس سے فریاد ہے وہ تو سنتا نہیں پھر جہاں کو سنانے سے کیا فائدہ