کیا ستم ہے کہ ستم ہم پہ وہ کر جاتے ہیں
کیا ستم ہے کہ ستم ہم پہ وہ کر جاتے ہیں
اپنے سائے سے جو تنہائی میں ڈر جاتے ہیں
لوٹ کے آنا ہی پڑتا ہے انہیں سینکڑوں بار
تیرے کوچے سے جو اک بار گزر جاتے ہیں
غم کے ماروں کو بھی آتی ہے کبھی خود پہ ہنسی
کبھی صحرا میں بھی کچھ پھول بکھر جاتے ہیں
یاد رہ جاتے ہیں احباب کے کچھ لطف و کرم
دن مصیبت کے بہر حال گزر جاتے ہیں
پارسائی نہ جتاؤ کہ یہ ہے مے خانہ
اچھے اچھے یہاں شیشے میں اتر جاتے ہیں
تم پشیماں نہ ہوں تم پر کوئی الزام نہیں
مرنے والے کبھی بے موت بھی مر جاتے ہیں
میری بگڑی ہوئی تقدیر بنے یا نہ بنے
ان کے بکھرے ہوئے گیسو تو سنور جاتے ہیں
دفن ہو کر بھی کہیں دبتے ہیں ارمان حسیں
بن کے گل سینۂ گلشن پہ ابھر جاتے ہیں
جان دے دیتے ہیں جو بات کے ہوتے ہیں دھنی
اور ہوں گے جو زباں دے کے مکر جاتے ہیں
لے کے امید یہاں آئے تھے کیا کیا رونقؔ
آپ کی بزم سے کیا لے کے اثر جاتے ہیں