رخ جو بدلا غم زندگی نے

رخ جو بدلا غم زندگی نے
مجھ کو اپنا لیا مے کشی نے


موج طوفاں میں تھا کون اپنا
آ کے ساحل پہ پوچھا سبھی نے


کھل ہی جاتا تھا راز خدائی
وہ تو روکا حد بندگی نے


شام سے صبح تک کوئی پوچھے
کیا دیا شمع کو روشنی نے


ورنہ پہچانتا کون رونقؔ
مجھ کو رسوا کیا شاعری نے