Mah Talat Zahidi

ماہ طلعت زاہدی

ماہ طلعت زاہدی کے تمام مواد

7 غزل (Ghazal)

    بے کہے بے سنے خدا حافظ

    بے کہے بے سنے خدا حافظ جو بھی گزرے اسے خدا حافظ درد رک بھی گیا اگر تو کیا ہے اجل سامنے خدا حافظ لغزشیں سب معاف ہوں میری وقت عجلت میں ہے خدا حافظ اتنی ناراضگی ارے توبہ وہ بھی بیمار سے خدا حافظ کم سے کم مڑ کے دیکھیے صاحب زندگی کہتی ہے خدا حافظ درد ہے یا ہے موت کی دستک بے بسی کیا ...

    مزید پڑھیے

    قبر پہ پھول کھلا آہستہ

    قبر پہ پھول کھلا آہستہ زخم سے خون بہا آہستہ دھیان کے زینے پہ یادوں نے پھر دیکھیے پاؤں دھرا آہستہ کہنے کو وقت گزرتا ہی نہ تھا اور جگ بیت گیا آہستہ کاٹے سے رات نہیں کٹتی تھی پھر بھی دن آ ہی گیا آہستہ آنکھ میں چہرہ بسا رہتا ہے اس لئے اشک گرا آہستہ میں جو مدت میں ہنسی دل نے ...

    مزید پڑھیے

    تم بن وقت یہ کیسا گزرا

    تم بن وقت یہ کیسا گزرا اشکوں کا اک دریا گزرا میرا ہی گھر بھول گیا تھا بادل قریہ قریہ گزرا کاٹ گیا تھا زیست کا دھارا کہنے کو اک لمحہ گزرا چیخ تھی دل کی لے میں ڈھل کر جیسے کوئی نغمہ گزرا خون ہے جن آنکھوں سے جاری ان میں بھی اک سپنا گزرا خوش رہنے کا خاک جتن ہو دل پر بھاری صدمہ ...

    مزید پڑھیے

    اک پرندہ سر دیوار بھی باقی نہ رہا

    اک پرندہ سر دیوار بھی باقی نہ رہا اب تو پرواز کا دیدار بھی باقی نہ رہا حبس ایسا تھا کہ سائے میں سلگ اٹھے گلاب لو چلی ایسی کہ گلزار بھی باقی نہ رہا لوگ دم سادھ گئے خوف نے گھیرا ایسے کوئی اندیشۂ‌ بے کار بھی باقی نہ رہا حادثہ کیا ہوا بکھرے ہوئے سناٹے میں لفظ سے رشتۂ اظہار بھی باقی ...

    مزید پڑھیے

    وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتا

    وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتا دل ڈوب چلا صبح کا تارا نہیں ملتا ملتے ہیں بہت یوں تو جو آغوش کشا ہو دل کے لئے وہ درد کا دھارا نہیں ملتا اس عہد کی تصویر میں اپنا بھی لہو ہے ڈھونڈے سے مگر نام ہمارا نہیں ملتا قدرت کا کرم ہو تو الگ بات ہے ورنہ مشکل میں تو اپنوں کا سہارا نہیں ...

    مزید پڑھیے

تمام

4 نظم (Nazm)

    کرشن چندر

    ابھی تو فٹ پاتھ کے مکینوں کی قسمتوں میں گھروں کے سپنے ہیں نامکمل ابھی تو رستے طویل ہیں راہ میں گڈھے ہیں ابھی تو جنگیں ہیں سرحدیں ہیں مہاجرت ہے ابھی تو ذاتوں کا دیوتا مسکرا رہا ہے ابھی شکستیں ہیں چار جانب ابھی محبت برہنہ پا ہے ابھی ہے شہر بتاں کا مرکز بہت سا ریشم بہت سی چاندی بہت ...

    مزید پڑھیے

    چاندنی کہتی ہے

    روز و شب حلقۂ آفات ہیں ہر لحظہ جواں سلسلہ وقت کی گردش کا یہاں سب ہیں پابندیٔ اوقات زمانہ میں مگن جان و تن فہم و خرد ہوش و گماں تم ہی تنہا نہیں اس سیل رواں میں مجبور میں بھی جیتی ہوں یہاں خود سے گریزاں ہو کر پھر بھی اک لمحے کی فرصت جو میسر آئے دل وہیں چپکے سے دھڑکن کو جگا دیتا ...

    مزید پڑھیے

    تجربے کی سرحد پر

    راگ ڈوب جاتے ہیں ساز ٹوٹ جاتے ہیں آسماں کے گوشوں میں ان گنت ستاروں کے دیپ بجھنے لگتے ہیں دن کی دھوپ میں اکثر وصل ممکنہ کے سب عہد چھوڑ دیتے ہیں باتوں میں کھنک ناپید اور چمک نگاہوں میں ماند پڑتی جاتی ہے ریشمین لہجے بھی کھردرے سے لگتے ہیں صحبتوں میں پہلی سی بے خودی نہیں رہتی چہرۂ ...

    مزید پڑھیے

    از سر نو

    تجھے چھو کر بہار آئی تھی کنج غم میں برسا تھا ترے آنے سے ساون چاندنی چھٹکی تھی پھولی تھی شفق بولی تھی کوئل دیکھ کر تجھ کو عمل یہ سانس لینے کا بہت آساں ہوا تھا کھیل سا لگنے لگا تھا آزمائش سے گزرنا کارزار زیست میں، دن رات کرتا اب۔۔۔ مگر پھر ابتدا سے کاوش پیہم میں گھومے جا رہے ...

    مزید پڑھیے