بے کہے بے سنے خدا حافظ
بے کہے بے سنے خدا حافظ
جو بھی گزرے اسے خدا حافظ
درد رک بھی گیا اگر تو کیا
ہے اجل سامنے خدا حافظ
لغزشیں سب معاف ہوں میری
وقت عجلت میں ہے خدا حافظ
اتنی ناراضگی ارے توبہ
وہ بھی بیمار سے خدا حافظ
کم سے کم مڑ کے دیکھیے صاحب
زندگی کہتی ہے خدا حافظ
درد ہے یا ہے موت کی دستک
بے بسی کیا کرے خدا حافظ
کار دنیا تو ختم ہوتا نہیں
کہنا ہی پڑتا ہے خدا حافظ