Mah Talat Zahidi

ماہ طلعت زاہدی

ماہ طلعت زاہدی کی نظم

    کرشن چندر

    ابھی تو فٹ پاتھ کے مکینوں کی قسمتوں میں گھروں کے سپنے ہیں نامکمل ابھی تو رستے طویل ہیں راہ میں گڈھے ہیں ابھی تو جنگیں ہیں سرحدیں ہیں مہاجرت ہے ابھی تو ذاتوں کا دیوتا مسکرا رہا ہے ابھی شکستیں ہیں چار جانب ابھی محبت برہنہ پا ہے ابھی ہے شہر بتاں کا مرکز بہت سا ریشم بہت سی چاندی بہت ...

    مزید پڑھیے

    چاندنی کہتی ہے

    روز و شب حلقۂ آفات ہیں ہر لحظہ جواں سلسلہ وقت کی گردش کا یہاں سب ہیں پابندیٔ اوقات زمانہ میں مگن جان و تن فہم و خرد ہوش و گماں تم ہی تنہا نہیں اس سیل رواں میں مجبور میں بھی جیتی ہوں یہاں خود سے گریزاں ہو کر پھر بھی اک لمحے کی فرصت جو میسر آئے دل وہیں چپکے سے دھڑکن کو جگا دیتا ...

    مزید پڑھیے

    تجربے کی سرحد پر

    راگ ڈوب جاتے ہیں ساز ٹوٹ جاتے ہیں آسماں کے گوشوں میں ان گنت ستاروں کے دیپ بجھنے لگتے ہیں دن کی دھوپ میں اکثر وصل ممکنہ کے سب عہد چھوڑ دیتے ہیں باتوں میں کھنک ناپید اور چمک نگاہوں میں ماند پڑتی جاتی ہے ریشمین لہجے بھی کھردرے سے لگتے ہیں صحبتوں میں پہلی سی بے خودی نہیں رہتی چہرۂ ...

    مزید پڑھیے

    از سر نو

    تجھے چھو کر بہار آئی تھی کنج غم میں برسا تھا ترے آنے سے ساون چاندنی چھٹکی تھی پھولی تھی شفق بولی تھی کوئل دیکھ کر تجھ کو عمل یہ سانس لینے کا بہت آساں ہوا تھا کھیل سا لگنے لگا تھا آزمائش سے گزرنا کارزار زیست میں، دن رات کرتا اب۔۔۔ مگر پھر ابتدا سے کاوش پیہم میں گھومے جا رہے ...

    مزید پڑھیے