کرشن چندر
ابھی تو فٹ پاتھ کے مکینوں کی قسمتوں میں گھروں کے سپنے ہیں نامکمل ابھی تو رستے طویل ہیں راہ میں گڈھے ہیں ابھی تو جنگیں ہیں سرحدیں ہیں مہاجرت ہے ابھی تو ذاتوں کا دیوتا مسکرا رہا ہے ابھی شکستیں ہیں چار جانب ابھی محبت برہنہ پا ہے ابھی ہے شہر بتاں کا مرکز بہت سا ریشم بہت سی چاندی بہت ...