Mah Talat Zahidi

ماہ طلعت زاہدی

ماہ طلعت زاہدی کی غزل

    بے کہے بے سنے خدا حافظ

    بے کہے بے سنے خدا حافظ جو بھی گزرے اسے خدا حافظ درد رک بھی گیا اگر تو کیا ہے اجل سامنے خدا حافظ لغزشیں سب معاف ہوں میری وقت عجلت میں ہے خدا حافظ اتنی ناراضگی ارے توبہ وہ بھی بیمار سے خدا حافظ کم سے کم مڑ کے دیکھیے صاحب زندگی کہتی ہے خدا حافظ درد ہے یا ہے موت کی دستک بے بسی کیا ...

    مزید پڑھیے

    قبر پہ پھول کھلا آہستہ

    قبر پہ پھول کھلا آہستہ زخم سے خون بہا آہستہ دھیان کے زینے پہ یادوں نے پھر دیکھیے پاؤں دھرا آہستہ کہنے کو وقت گزرتا ہی نہ تھا اور جگ بیت گیا آہستہ کاٹے سے رات نہیں کٹتی تھی پھر بھی دن آ ہی گیا آہستہ آنکھ میں چہرہ بسا رہتا ہے اس لئے اشک گرا آہستہ میں جو مدت میں ہنسی دل نے ...

    مزید پڑھیے

    تم بن وقت یہ کیسا گزرا

    تم بن وقت یہ کیسا گزرا اشکوں کا اک دریا گزرا میرا ہی گھر بھول گیا تھا بادل قریہ قریہ گزرا کاٹ گیا تھا زیست کا دھارا کہنے کو اک لمحہ گزرا چیخ تھی دل کی لے میں ڈھل کر جیسے کوئی نغمہ گزرا خون ہے جن آنکھوں سے جاری ان میں بھی اک سپنا گزرا خوش رہنے کا خاک جتن ہو دل پر بھاری صدمہ ...

    مزید پڑھیے

    اک پرندہ سر دیوار بھی باقی نہ رہا

    اک پرندہ سر دیوار بھی باقی نہ رہا اب تو پرواز کا دیدار بھی باقی نہ رہا حبس ایسا تھا کہ سائے میں سلگ اٹھے گلاب لو چلی ایسی کہ گلزار بھی باقی نہ رہا لوگ دم سادھ گئے خوف نے گھیرا ایسے کوئی اندیشۂ‌ بے کار بھی باقی نہ رہا حادثہ کیا ہوا بکھرے ہوئے سناٹے میں لفظ سے رشتۂ اظہار بھی باقی ...

    مزید پڑھیے

    وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتا

    وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتا دل ڈوب چلا صبح کا تارا نہیں ملتا ملتے ہیں بہت یوں تو جو آغوش کشا ہو دل کے لئے وہ درد کا دھارا نہیں ملتا اس عہد کی تصویر میں اپنا بھی لہو ہے ڈھونڈے سے مگر نام ہمارا نہیں ملتا قدرت کا کرم ہو تو الگ بات ہے ورنہ مشکل میں تو اپنوں کا سہارا نہیں ...

    مزید پڑھیے

    اس کی آنکھوں میں اک سوال سا تھا

    اس کی آنکھوں میں اک سوال سا تھا میرے دل میں کوئی ملال سا تھا دھل گیا آنسوؤں میں سارا وجود عشق میں یہ عجب کمال سا تھا جسم کی ڈال پر جھکا تھا خواب روح سرشار دل نہال سا تھا گفتگو کر رہی تھی خاموشی ہجر کی راہ میں وصال سا تھا خواہشیں ہر گھڑی عروج پہ تھیں وقت کو ہر گھڑی زوال سا ...

    مزید پڑھیے

    اپنی پلکوں سے جو ٹوٹے ہیں گہر دیکھتے ہیں

    اپنی پلکوں سے جو ٹوٹے ہیں گہر دیکھتے ہیں ہم دعا مانگتے ہیں اور اثر دیکھتے ہیں کوئی برسا ہوا بادل بھی جو گزرا ہے تو ہم ڈر کے بارش میں ٹپکتا ہوا گھر دیکھتے ہیں سیر کیسی یہاں تہذیب کی زنجیر بھی ہے ہم تو بس روزن دیوار سے در دیکھتے ہیں صرف خوابوں کا جہاں ہم نے سجایا ورنہ لوگ تو جی ...

    مزید پڑھیے