Madhurima Singh

مدھوریما سنگھ

  • 1956

مدھوریما سنگھ کے تمام مواد

7 غزل (Ghazal)

    کچھ سفر کا غبار جیسا تھا

    کچھ سفر کا غبار جیسا تھا سانسوں پر اک ادھار جیسا تھا یک بیک اس کا ایسے چپ ہونا چیخ تھی یا پکار جیسا تھا جو کہا تم نے اور سنا میں نے عمر بھر اک خمار جیسا تھا نام جو ہونٹ پر نہیں آیا دھڑکنوں میں شمار جیسا تھا نام تیرا لکھا تھا انگلی سے پر شلا پر ابھار جیسا تھا نیم سے چاند چھن کے ...

    مزید پڑھیے

    بہت ہیں زندگی میں غم سنو خاموش کیوں ہو تم

    بہت ہیں زندگی میں غم سنو خاموش کیوں ہو تم تمہارے روبرو ہیں ہم سنو خاموش کیوں ہو تم تمہاری خامشی پر بس ہماری جان جاتی ہے ہماری زندگی ہے کم سنو خاموش کیوں ہو تم کہا تھا تم نے آنکھوں میں یہ دنیا بھول جاؤ گے تمہیں کیا خوف ہے ہر دم سنو خاموش کیوں ہو تم ہمیں دے دو اداسی آنکھ میں کب تک ...

    مزید پڑھیے

    پھر یادوں کا موسم آیا کئی برس کے بعد

    پھر یادوں کا موسم آیا کئی برس کے بعد جانے کیوں درپن شرمایا کئی برس کے بعد دل سے کتنا دور رہا تھا سکھ سپنوں کا گاؤں آنکھوں میں سپنا انکرایا کئی برس کے بعد میٹھی میٹھی خوشبو والی سانسیں آتی ہیں بگیا نے مہوا ٹپکایا کئی برس کے بعد تیز دھوپ میں تپتی راہیں پیاس تھی ننگے پاؤں نینوں ...

    مزید پڑھیے

    میری خاطر کوش بھاگیہ کا گھٹ جاتا ہے

    میری خاطر کوش بھاگیہ کا گھٹ جاتا ہے دل کی ہر چٹھی کا کونا پھٹ جاتا ہے چنچل شوخ ہوائیں سانکل کھٹکاتی ہیں دھیان ہمارا تیری اور سے ہٹ جاتا ہے ہم نے سکھ سپنوں کے گہرے گھاؤ سیئے ہیں اگر پاٹنا چاہو ساگر پٹ جاتا ہے دھیان سے پکڑو بانس زندگی لچک رہی ہے خوابوں کی رسی پر من کا نٹ جاتا ...

    مزید پڑھیے

    ارادے ہی پیروں کے چھالے ہوئے ہیں

    ارادے ہی پیروں کے چھالے ہوئے ہیں سفر حادثوں کے حوالے ہوئے ہیں تمنا بہت تھی خوشی مل نہ پائی ہون میں جلے ہاتھ کالے ہوئے ہیں کوئی غم نہیں اپنے جلنے کا ہم کو تری راہ میں تو اجالے ہوئے ہیں نہ ٹوٹے کوئی خواب پلکوں سے گر کر چھلکتے ہیں نین ہم سنبھالے ہوئے ہیں ابھی تک ہے سانسوں میں ...

    مزید پڑھیے

تمام