ماہم شاہ کی نظم

    کراچی کی لڑکی

    میں کراچی کی رہنے والی ہوں اک سمندر یہاں پے بہتا ہے اس سمندر کی میں بھی ماہی ہوں عشق کی راہ کی میں راہی ہوں میری منزل ہے اس کی خاموشی میری آواز وہ سمجھتا ہے اس کی موجوں سے آشنا ہوں میں اس کی لہریں بھی جانتی ہیں مجھے میں یہاں روز شام آتی ہوں اپنے غم کا بیان کرنے کو یہ مرا حال دل بھی ...

    مزید پڑھیے

    عورت نامہ

    کس کی آرزو تھی میں کس کی ہو گئی ہوں میں کہ خود کو بھی نہیں ملتی کہیں تو کھو گئی ہوں میں یہی تھی چاہتی کہنا کچھ اور ہی کہہ گئی ہوں میں فرائض تیرے پرچے میں صف اول رہی ہوں میں رہین عاشقی ہوں میں مسلسل ٹکڑوں میں جی کر مسلسل مر رہی ہوں میں ہے سب سے اتفاق اپنا کہ خود سے لڑ رہی ہوں ...

    مزید پڑھیے