ماہم شاہ کی غزل

    میں بہار دل شاعر ہوں تو اب سارے گلاب (ردیف .. د)

    میں بہار دل شاعر ہوں تو اب سارے گلاب کھل اٹھیں گے مری بو سے مرے جانے کے بعد مرے ہونے کی نہیں قدر کبھی تو نے کی تو مرا نام نہیں لے مرے جانے کے بعد وہ جو ہنستے تھے مرے حال پہ کچھ دن پہلے وہ بھی بے ساختہ روئے مرے جانے کے بعد جو کبھی بھی مرے پہلو میں نہیں بیٹھے تھے وہ مرے سوگ میں ...

    مزید پڑھیے

    ہجر لازم ہے تو یہ ہجر نبھائے جاؤ

    ہجر لازم ہے تو یہ ہجر نبھائے جاؤ جا رہے ہو تو کوئی ربط بنائے جاؤ جو بھی اس دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہو کیسے ممکن ہے کتابو سے بھلائے جاؤ شاید یہ طرز کسی روح میں گھر کر جائے عین ممکن ہے کسی دل میں بسائے جاؤ یہ مری رات بھی امید لگائے ہوئے ہے اس کے دامن سے کوئی صبح لگائے جاؤ گفتگو ...

    مزید پڑھیے

    محبت ہو گئی جس کو اسے اب دیکھنا کیا ہے

    محبت ہو گئی جس کو اسے اب دیکھنا کیا ہے بھلا کیا ہے برا کیا ہے سزا کیا ہے جزا کیا ہے ذرا تم سامنے آؤ نظر ہم سے تو ٹکراؤ کسے پھر ہوش ہو تم نے کہا کیا ہے سنا کیا ہے محبت جرم ایسا ہے کہ مجرم ہے کھڑا بے سدھ کیا کیا ہے گنہ کیا ہے سزا کیا ہے خطا کیا ہے نہ آنا عشق کے بازار میں اندھی تجارت ...

    مزید پڑھیے

    درد دل کون آزماتا ہے

    درد دل کون آزماتا ہے کون بے چینیاں بڑھاتا ہے رات بھر جاگتے رہے ہو تم جانے کیا غم تمہیں ستاتا ہے ہنستے ہنستے جو رونے لگتے ہو کچھ کہو کون یاد آتا ہے جس نجومی نے تھی ہتھیلی پڑھی کیا مقدر بھی وہ جگاتا ہے جسے کرنا ہو کوئی وعدہ وفا تو وہ پھر لوٹ کر بھی آتا ہے کوچۂ حسن تو گیا سالم پر ...

    مزید پڑھیے

    نا احترام کا بس احترام کر بیٹھے

    نا احترام کا بس احترام کر بیٹھے ہم اپنے کرب کا خود انتظام کر بیٹھے انہیں تو آنا ہی کب تھا ہماری بستی میں ہزار طرح کے ہم اہتمام کر بیٹھے یہ بے رخی کا عجب سلسلہ تو تب سے ہے وہ گزرے راہ سے اور ہم سلام کر بیٹھے خموش طبع تھے دامن بچا کے چل دیے وہ اور ہم نصیب کے مارے کلام کر ...

    مزید پڑھیے

    رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کا

    رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کا چاہتے جسے ہم ہیں وہ نہیں ہے چاہت کا جس نے ہجر کاٹا ہے بس وہ جان سکتا ہے زخم سل نہیں سکتا درد ہے وہ شدت کا آنکھ مر تو جاتی ہے جینے کی تمنا میں اور وہ نہیں مرتا جو ہے خواب حسرت کا جو لکھا لکیروں میں اس کو پورا ہونا ہے وقت ٹل نہیں سکتا ہر گھڑی ...

    مزید پڑھیے

    کیا سناؤں دل مضطر کا فسانہ تم کو

    کیا سناؤں دل مضطر کا فسانہ تم کو میں نے چاہا تھا کبھی ایک زمانہ تم کو یہ جو تم عید پہ بھی آتے نہیں لوٹ کے گھر کوئی چھٹی کا نہیں ہوتا بہانہ تم کو بستر مرگ پہ ماں تھی تو نہ تھے سامنے تم بہت ہی مہنگا پڑا ہے چلے جانا تم کو گاؤں کے کچے مکانوں میں یہ پکے رشتے راس آئے گا نہیں شہر کا ...

    مزید پڑھیے

    دل کے زخموں کا کچھ کیا نہ کرو

    دل کے زخموں کا کچھ کیا نہ کرو چاک ہو جائے تو سیا نہ کرو خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لئے ان میں جا کے صنم جیا نہ کرو جسے تم چھوڑ آئے ہو وہ شہر اسے اب یاد تم کیا نہ کرو راہ میں چھوڑ کر چلا جو گیا نام اس شخص کا لیا نہ کرو بڑے آداب ہیں مشاعرے کے کبھی وقت سخن پیا نہ کرو اتنا کم ظرف وہ نہیں ...

    مزید پڑھیے

    کبھی عشق سے کبھی پیار سے

    کبھی عشق سے کبھی پیار سے کبھی موسموں کی بہار سے شب ہجر روشنی ہو گئی مرے آنسوؤں کی قطار سے نہ بہل سکی نہ نکل سکی ترے دل کے ایک بھی تار سے نہ ہی تیرے دل میں ٹھہر سکی کبھی اضطراب و قرار سے میں نکل کے اب کہاں جاؤں گی تری چاہتوں کے حصار سے یہ جو چشم ماہمؔ ابل پڑی ترے خواب ہی کے خمار ...

    مزید پڑھیے

    چھوڑ امید اسے اب نہیں آنا شاید

    چھوڑ امید اسے اب نہیں آنا شاید آنا بھی ہے تو نہیں ہم کو بتانا شاید صبر آیا ہے ہمیں اشک فشانی سے ہی مل ہی جائے کوئی اس کو بھی بہانہ شاید اس نے اچھا ہی کیا بن مجھے بتلائے گیا جان لے لیتا مری اس کا یوں جانا شاید ان کا اپنا بھی جو جائے گا بنا بتلائے تب اس احساس کو سمجھے گا زمانہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2