ماہم شاہ کے تمام مواد

11 غزل (Ghazal)

    میں بہار دل شاعر ہوں تو اب سارے گلاب (ردیف .. د)

    میں بہار دل شاعر ہوں تو اب سارے گلاب کھل اٹھیں گے مری بو سے مرے جانے کے بعد مرے ہونے کی نہیں قدر کبھی تو نے کی تو مرا نام نہیں لے مرے جانے کے بعد وہ جو ہنستے تھے مرے حال پہ کچھ دن پہلے وہ بھی بے ساختہ روئے مرے جانے کے بعد جو کبھی بھی مرے پہلو میں نہیں بیٹھے تھے وہ مرے سوگ میں ...

    مزید پڑھیے

    ہجر لازم ہے تو یہ ہجر نبھائے جاؤ

    ہجر لازم ہے تو یہ ہجر نبھائے جاؤ جا رہے ہو تو کوئی ربط بنائے جاؤ جو بھی اس دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہو کیسے ممکن ہے کتابو سے بھلائے جاؤ شاید یہ طرز کسی روح میں گھر کر جائے عین ممکن ہے کسی دل میں بسائے جاؤ یہ مری رات بھی امید لگائے ہوئے ہے اس کے دامن سے کوئی صبح لگائے جاؤ گفتگو ...

    مزید پڑھیے

    محبت ہو گئی جس کو اسے اب دیکھنا کیا ہے

    محبت ہو گئی جس کو اسے اب دیکھنا کیا ہے بھلا کیا ہے برا کیا ہے سزا کیا ہے جزا کیا ہے ذرا تم سامنے آؤ نظر ہم سے تو ٹکراؤ کسے پھر ہوش ہو تم نے کہا کیا ہے سنا کیا ہے محبت جرم ایسا ہے کہ مجرم ہے کھڑا بے سدھ کیا کیا ہے گنہ کیا ہے سزا کیا ہے خطا کیا ہے نہ آنا عشق کے بازار میں اندھی تجارت ...

    مزید پڑھیے

    درد دل کون آزماتا ہے

    درد دل کون آزماتا ہے کون بے چینیاں بڑھاتا ہے رات بھر جاگتے رہے ہو تم جانے کیا غم تمہیں ستاتا ہے ہنستے ہنستے جو رونے لگتے ہو کچھ کہو کون یاد آتا ہے جس نجومی نے تھی ہتھیلی پڑھی کیا مقدر بھی وہ جگاتا ہے جسے کرنا ہو کوئی وعدہ وفا تو وہ پھر لوٹ کر بھی آتا ہے کوچۂ حسن تو گیا سالم پر ...

    مزید پڑھیے

    نا احترام کا بس احترام کر بیٹھے

    نا احترام کا بس احترام کر بیٹھے ہم اپنے کرب کا خود انتظام کر بیٹھے انہیں تو آنا ہی کب تھا ہماری بستی میں ہزار طرح کے ہم اہتمام کر بیٹھے یہ بے رخی کا عجب سلسلہ تو تب سے ہے وہ گزرے راہ سے اور ہم سلام کر بیٹھے خموش طبع تھے دامن بچا کے چل دیے وہ اور ہم نصیب کے مارے کلام کر ...

    مزید پڑھیے

تمام

2 نظم (Nazm)

    کراچی کی لڑکی

    میں کراچی کی رہنے والی ہوں اک سمندر یہاں پے بہتا ہے اس سمندر کی میں بھی ماہی ہوں عشق کی راہ کی میں راہی ہوں میری منزل ہے اس کی خاموشی میری آواز وہ سمجھتا ہے اس کی موجوں سے آشنا ہوں میں اس کی لہریں بھی جانتی ہیں مجھے میں یہاں روز شام آتی ہوں اپنے غم کا بیان کرنے کو یہ مرا حال دل بھی ...

    مزید پڑھیے

    عورت نامہ

    کس کی آرزو تھی میں کس کی ہو گئی ہوں میں کہ خود کو بھی نہیں ملتی کہیں تو کھو گئی ہوں میں یہی تھی چاہتی کہنا کچھ اور ہی کہہ گئی ہوں میں فرائض تیرے پرچے میں صف اول رہی ہوں میں رہین عاشقی ہوں میں مسلسل ٹکڑوں میں جی کر مسلسل مر رہی ہوں میں ہے سب سے اتفاق اپنا کہ خود سے لڑ رہی ہوں ...

    مزید پڑھیے