کبھی عشق سے کبھی پیار سے
کبھی عشق سے کبھی پیار سے
کبھی موسموں کی بہار سے
شب ہجر روشنی ہو گئی
مرے آنسوؤں کی قطار سے
نہ بہل سکی نہ نکل سکی
ترے دل کے ایک بھی تار سے
نہ ہی تیرے دل میں ٹھہر سکی
کبھی اضطراب و قرار سے
میں نکل کے اب کہاں جاؤں گی
تری چاہتوں کے حصار سے
یہ جو چشم ماہمؔ ابل پڑی
ترے خواب ہی کے خمار سے