یادیں ساری نچوڑ کر آنا
یادیں ساری نچوڑ کر آنا خط جو پھاڑے وہ جوڑ کر آنا تیرا باتیں گھمانا اچھا ہے زلفیں بھی ساری موڑ کر آنا تم کبھی ملنے آؤ تو مجھ سے گھر پہ چہرہ یہ چھوڑ کر آنا آئنے میں وہ شکل جھوٹی ہے آئنے سارے توڑ کر آنا ہے مراسم گنے چنے جو بھی سب سے تم منہ یہ موڑ کر آنا کوئی مشکل اگر دکھے تم ...