ایم ایس محور کی غزل

    یادیں ساری نچوڑ کر آنا

    یادیں ساری نچوڑ کر آنا خط جو پھاڑے وہ جوڑ کر آنا تیرا باتیں گھمانا اچھا ہے زلفیں بھی ساری موڑ کر آنا تم کبھی ملنے آؤ تو مجھ سے گھر پہ چہرہ یہ چھوڑ کر آنا آئنے میں وہ شکل جھوٹی ہے آئنے سارے توڑ کر آنا ہے مراسم گنے چنے جو بھی سب سے تم منہ یہ موڑ کر آنا کوئی مشکل اگر دکھے تم ...

    مزید پڑھیے

    اس دشت کا جو رابطہ ہے تشنگی کے ساتھ

    اس دشت کا جو رابطہ ہے تشنگی کے ساتھ تو خوش رہے دعا ہے مگر اک کمی کے ساتھ تجھ سے بچھڑ کے ہم مرے تو جاں نہیں مگر پھر کر لیے یہ فاصلے اور زندگی کے ساتھ ڈھونڈھ اب شجر پہاڑ پرندے ہوا کہیں اکتا گیا ہے آدمی اب آدمی کے ساتھ وہ سلسلہ عجیب تھا تنہائی کا مری سب کے رہے قریب مگر دشمنی کے ...

    مزید پڑھیے

    بس ایک آخری رستے میں ہم کھڑی دیکھیں

    بس ایک آخری رستے میں ہم کھڑی دیکھیں ترا یہ چہرہ حسیں دیکھیں یا گھڑی دیکھیں ہے انتظار ترے سامنے سے گزریں آج مسلسل آج یہ آنکھیں تری لڑی دیکھیں یہ آرزو کہ تمہیں دیکھیں جب کبھی آنکھیں یہ چہرے پہ ترے مسکان ہم بڑی دیکھیں یوں مدتوں نہیں آتی تمہاری یاد ہمیں کبھی جو جائے تو اشکوں کی ...

    مزید پڑھیے

    اس کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں

    اس کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں کیا پیالے میں ہی شراب نہیں پھول تو اور بھی ہیں لیکن دوست اس کے جیسا کوئی گلاب نہیں حال سوکھے درخت سے پوچھو اپنا سایا بھی دستیاب نہیں پہلے بوسے میں عشق پھیکا لگا آخری کا کوئی جواب نہیں ہجر کی آگ سے بچا نہ کوئی اشک ہی اشک ہے بس آب نہیں وصل کے دن ...

    مزید پڑھیے