اس دشت کا جو رابطہ ہے تشنگی کے ساتھ

اس دشت کا جو رابطہ ہے تشنگی کے ساتھ
تو خوش رہے دعا ہے مگر اک کمی کے ساتھ


تجھ سے بچھڑ کے ہم مرے تو جاں نہیں مگر
پھر کر لیے یہ فاصلے اور زندگی کے ساتھ


ڈھونڈھ اب شجر پہاڑ پرندے ہوا کہیں
اکتا گیا ہے آدمی اب آدمی کے ساتھ


وہ سلسلہ عجیب تھا تنہائی کا مری
سب کے رہے قریب مگر دشمنی کے ساتھ


رونا نہ دھونا جھگڑا نہ کوئی شکایتیں
وہ رشتہ توڑ بھی گیا تو سادگی کے ساتھ


سب سوچتے رہے کہ محبت ہی چھوڑ دی
پکڑا گیا وہ کرشن اسی بانسری کے ساتھ


گزرا جو کوئی اپنے بھی گھر پھر نہیں گیا
ہے کون سا یہ رشتہ تری اس گلی کے ساتھ


ایک ایک یاد تیری پگھلتی ہے برف سی
کیا ہی مزہ شراب کا ہے تیرگی کے ساتھ


اٹھ کر چلا گیا وہ کہیں اور بزم سے
اچھا نہیں ہوا یہ مری شاعری کے ساتھ