بس ایک آخری رستے میں ہم کھڑی دیکھیں
بس ایک آخری رستے میں ہم کھڑی دیکھیں
ترا یہ چہرہ حسیں دیکھیں یا گھڑی دیکھیں
ہے انتظار ترے سامنے سے گزریں آج
مسلسل آج یہ آنکھیں تری لڑی دیکھیں
یہ آرزو کہ تمہیں دیکھیں جب کبھی آنکھیں
یہ چہرے پہ ترے مسکان ہم بڑی دیکھیں
یوں مدتوں نہیں آتی تمہاری یاد ہمیں
کبھی جو جائے تو اشکوں کی ہم جھڑی دیکھیں