یادیں ساری نچوڑ کر آنا

یادیں ساری نچوڑ کر آنا
خط جو پھاڑے وہ جوڑ کر آنا


تیرا باتیں گھمانا اچھا ہے
زلفیں بھی ساری موڑ کر آنا


تم کبھی ملنے آؤ تو مجھ سے
گھر پہ چہرہ یہ چھوڑ کر آنا


آئنے میں وہ شکل جھوٹی ہے
آئنے سارے توڑ کر آنا


ہے مراسم گنے چنے جو بھی
سب سے تم منہ یہ موڑ کر آنا


کوئی مشکل اگر دکھے تم کو
بانہہ اس کی مروڑ کر آنا


جاگتے رہنا میرے خوابوں میں
نیند کو تم جھنجھوڑ کر آنا


سانسیں دھیمی قدم ذرا ہو تیز
جب کبھی آؤ دوڑ کر آنا


چھوڑنا بیچ راستے نہیں ٹھیک
سب کچھ اس بار چھوڑ کر آنا