میں ٹوٹتا رہوں ایسی تری رضا تو نہیں
میں ٹوٹتا رہوں ایسی تری رضا تو نہیں
ہوائے تند میں شامل تری ادا تو نہیں
میں چونک اٹھا ہوں بہت اپنی چپ کے صحرا میں
جو آ رہی ہے کہیں میری ہی صدا تو نہیں
نہ جانے کون سی منزل شکست کی آئی
مری پکار میں پہلے یہ درد تھا تو نہیں
فغاں پہ تنگ ہوا لفظ و صوت کا صحرا
مرا خرابۂ جاں بے کنار تھا تو نہیں
گزر سکا نہ کوئی اس دیار سے اب تک
سکوت دل کے پس پردہ اک خلا تو نہیں