Lubna Safdar

لبنی صفدر

لبنی صفدر کی غزل

    خزاں کی شام کو زخم بہار کس نے کیا

    خزاں کی شام کو زخم بہار کس نے کیا ہر ایک ریشۂ گل رنگ بار کس نے کیا خوشی وصال کی ساری سمیٹ لی تو نے فراق لمحوں کو بولو شمار کس نے کیا ہر ایک شخص یہاں بد گمان تجھ سے تھا نگاہ یار ترا اعتبار کس نے کیا یہ میرے گھر کی اداسی گواہی دے گی تجھے کہ تیرے ہجر کے دریا کو پار کس نے کیا متاع جاں ...

    مزید پڑھیے

    زمین چشم نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھا

    زمین چشم نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھا تری ہر یاد کا موتی تو پلکوں میں پرونا تھا ملن کے موسموں میں جانے کیوں میں بھول بیٹھی تھی تجھے بھی شہر کی اس بھیڑ میں اے دوست کھونا تھا فقط اپنے خیالوں سے نہ باندھو یوں مرے دلبر کبھی دیتے رہائی مجھ کو بھی کچھ دیر سونا تھا گرا ہے تو کئی ...

    مزید پڑھیے

    پوروں پوروں زخم ہوئی ہوں

    پوروں پوروں زخم ہوئی ہوں خوابوں کی سیڑھی سے گری ہوں کاسہ مرا ہے حرف تسلی کرم کا سکہ مانگ رہی ہوں سائے میں اس کے بیٹھنا چاہوں صدیوں سے میں تھکی ہوئی ہوں راہ کے جس نے خار چنے تھے دل سے اس کی آج ہوئی ہوں چہرے پر ہے گرد کا شیشہ اندر سے میں چمک رہی ہوں

    مزید پڑھیے

    شعلہ جلتا ہوا سرد سی شام میں

    شعلہ جلتا ہوا سرد سی شام میں من پگھلتا ہوا سرد سی شام میں وحشتوں نے رگ جاں کو کاٹا ہے خوب دکھ مسلتا ہوا سرد سی شام میں آسمانوں پہ رنگوں کے میلے بھی تھے دن تھا ڈھلتا ہوا سرد سی شام میں کون تھا دشت میں سنگ میرے کہو ساتھ چلتا ہوا سرد سی شام میں بے خودی کو کہوں کیا میں اپنا ...

    مزید پڑھیے

    دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب

    دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب عشق اپنا مزاج ہے صاحب دشت کی ریت ہے بہت پیاسی آبلوں کا خراج ہے صاحب پاس حرمت نہیں ہے لفظوں کی کیسا وحشی سماج ہے صاحب آپ کو بھول ہی نہیں پاتی میرا کوئی علاج ہے صاحب سانس بھی ٹھیک سے نہیں آتا نفرتوں کا رواج ہے صاحب کچھ بھی بدلا نہیں ہے دنیا میں جو بھی ...

    مزید پڑھیے

    کچھ کہتے ضرور ان سے گویائی نہیں باقی

    کچھ کہتے ضرور ان سے گویائی نہیں باقی صورت تو حسیں ہوگی بینائی نہیں باقی دکھ درد کی ساتھی تھی ملنا ہے محال اس کا اک حشر سا برپا ہے تنہائی نہیں باقی اب دل میں ہے کیا میرے اس بات کو تم چھوڑو اس راہ محبت میں پسپائی نہیں باقی حالات کی شدت نے جھلسائے بدن ایسے چہرے کی ضیا رخصت زیبائی ...

    مزید پڑھیے