شعلہ جلتا ہوا سرد سی شام میں

شعلہ جلتا ہوا سرد سی شام میں
من پگھلتا ہوا سرد سی شام میں


وحشتوں نے رگ جاں کو کاٹا ہے خوب
دکھ مسلتا ہوا سرد سی شام میں


آسمانوں پہ رنگوں کے میلے بھی تھے
دن تھا ڈھلتا ہوا سرد سی شام میں


کون تھا دشت میں سنگ میرے کہو
ساتھ چلتا ہوا سرد سی شام میں


بے خودی کو کہوں کیا میں اپنا بدن
دیکھوں ڈھلتا ہوا سرد سی شام میں