دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب
دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب
عشق اپنا مزاج ہے صاحب
دشت کی ریت ہے بہت پیاسی
آبلوں کا خراج ہے صاحب
پاس حرمت نہیں ہے لفظوں کی
کیسا وحشی سماج ہے صاحب
آپ کو بھول ہی نہیں پاتی
میرا کوئی علاج ہے صاحب
سانس بھی ٹھیک سے نہیں آتا
نفرتوں کا رواج ہے صاحب
کچھ بھی بدلا نہیں ہے دنیا میں
جو بھی کل تھا وہ آج ہے صاحب
میرا حصہ نہیں مقدر میں
یہ مرا احتجاج ہے صاحب