خزاں کی شام کو زخم بہار کس نے کیا
خزاں کی شام کو زخم بہار کس نے کیا
ہر ایک ریشۂ گل رنگ بار کس نے کیا
خوشی وصال کی ساری سمیٹ لی تو نے
فراق لمحوں کو بولو شمار کس نے کیا
ہر ایک شخص یہاں بد گمان تجھ سے تھا
نگاہ یار ترا اعتبار کس نے کیا
یہ میرے گھر کی اداسی گواہی دے گی تجھے
کہ تیرے ہجر کے دریا کو پار کس نے کیا
متاع جاں کو کیا خاک کس نے تیرے لئے
یہ خاک جاں ہی بتائے گی پیار کس نے کیا
وفا میں جان لٹانے کے بعد بھی لبنیٰؔ
مرے خلوص محبت پہ وار کس نے کیا