Lubna Safdar

لبنی صفدر

لبنی صفدر کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    خزاں کی شام کو زخم بہار کس نے کیا

    خزاں کی شام کو زخم بہار کس نے کیا ہر ایک ریشۂ گل رنگ بار کس نے کیا خوشی وصال کی ساری سمیٹ لی تو نے فراق لمحوں کو بولو شمار کس نے کیا ہر ایک شخص یہاں بد گمان تجھ سے تھا نگاہ یار ترا اعتبار کس نے کیا یہ میرے گھر کی اداسی گواہی دے گی تجھے کہ تیرے ہجر کے دریا کو پار کس نے کیا متاع جاں ...

    مزید پڑھیے

    زمین چشم نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھا

    زمین چشم نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھا تری ہر یاد کا موتی تو پلکوں میں پرونا تھا ملن کے موسموں میں جانے کیوں میں بھول بیٹھی تھی تجھے بھی شہر کی اس بھیڑ میں اے دوست کھونا تھا فقط اپنے خیالوں سے نہ باندھو یوں مرے دلبر کبھی دیتے رہائی مجھ کو بھی کچھ دیر سونا تھا گرا ہے تو کئی ...

    مزید پڑھیے

    پوروں پوروں زخم ہوئی ہوں

    پوروں پوروں زخم ہوئی ہوں خوابوں کی سیڑھی سے گری ہوں کاسہ مرا ہے حرف تسلی کرم کا سکہ مانگ رہی ہوں سائے میں اس کے بیٹھنا چاہوں صدیوں سے میں تھکی ہوئی ہوں راہ کے جس نے خار چنے تھے دل سے اس کی آج ہوئی ہوں چہرے پر ہے گرد کا شیشہ اندر سے میں چمک رہی ہوں

    مزید پڑھیے

    شعلہ جلتا ہوا سرد سی شام میں

    شعلہ جلتا ہوا سرد سی شام میں من پگھلتا ہوا سرد سی شام میں وحشتوں نے رگ جاں کو کاٹا ہے خوب دکھ مسلتا ہوا سرد سی شام میں آسمانوں پہ رنگوں کے میلے بھی تھے دن تھا ڈھلتا ہوا سرد سی شام میں کون تھا دشت میں سنگ میرے کہو ساتھ چلتا ہوا سرد سی شام میں بے خودی کو کہوں کیا میں اپنا ...

    مزید پڑھیے

    دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب

    دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب عشق اپنا مزاج ہے صاحب دشت کی ریت ہے بہت پیاسی آبلوں کا خراج ہے صاحب پاس حرمت نہیں ہے لفظوں کی کیسا وحشی سماج ہے صاحب آپ کو بھول ہی نہیں پاتی میرا کوئی علاج ہے صاحب سانس بھی ٹھیک سے نہیں آتا نفرتوں کا رواج ہے صاحب کچھ بھی بدلا نہیں ہے دنیا میں جو بھی ...

    مزید پڑھیے

تمام

2 نظم (Nazm)

    کاش

    جانے کیوں میرے لیے اس کی ہر بات سے پہلے یہ ہی ہوتا ہے کاش

    مزید پڑھیے

    اندر کا موسم

    گرمی کی تپتی دوپہر کی شدت ہو یا سرد شاموں کی خنکی جسموں میں اتری ہو تیرا ساتھ ہو تو موسموں سے کیا ہوتا ہے

    مزید پڑھیے