میں چپ رہوں تو بھی اندر پکارتا ہے کوئی
میں چپ رہوں تو بھی اندر پکارتا ہے کوئی مرے غرور کی پگڑی اتارتا ہے کوئی میں جب بھی ماں کے تصور میں ڈوب جاتا ہوں نظر کے سامنے بانہیں پسارتا ہے کوئی مرے عمل سے مقدر اگر بگڑ جائے خدا کے فضل سے قسمت سنوارتا ہے کوئی عجیب شخص ہے ہر بار جیت جاتا ہے کہ جیت کر بھی زمانے میں ہارتا ہے ...