ایک پتھر ہے مگر آئنہ خانے کتنے
ایک پتھر ہے مگر آئنہ خانے کتنے
ایک دیوانہ لگائے گا نشانے کتنے
صرف اک تم ہی نہیں اور نہ جانے کتنے
لوگ بن جاتے ہیں الفت میں دوانے کتنے
عشق میں لوگ بناتے ہیں بہانے کتنے
ایک دل ہے مگر ہیں اس کے فسانے کتنے
میں نے اک بار ترا جلوہ حسیں دیکھا ہے
اس ملاقات کو گزرے ہیں زمانے کتنے