تری یلغار سے دنیا بھی دہل سکتی ہے
تری یلغار سے دنیا بھی دہل سکتی ہے
تو بدل جائے تو ہر چیز بدل سکتی ہے
ایک عفریت کہ شعلوں کو نگل سکتی ہے
بند ہے نیام میں تلوار نکل سکتی ہے
تیرے اعمال زمانے میں ہیں ایسے پیارے
جن سے اسلاف کی پگڑی بھی اچھل سکتی ہے
دین حق کے لئے ناموس شریعت کے لئے
یہ وہ ملت ہے کہ شعلوں میں بھی چل سکتی ہے
عسکری قوم ہے فطرت میں جدل باقی ہے
اس کو چھیڑو نہ یہ انداز بدل سکتی ہے
اپنی تاریخ کے اوراق کھنگالو ثانیؔ
اب کہاں قوم کھلونوں سے بہل سکتی ہے