کنور بے چین کی غزل

    تمہارے جسم جب جب دھوپ میں کالے پڑے ہوں گے

    تمہارے جسم جب جب دھوپ میں کالے پڑے ہوں گے ہماری بھی غزل کے پاؤں میں چھالے پڑے ہوں گے اگر آنکھوں پہ گہری نیند کے تالے پڑے ہوں گے تو کچھ خوابوں کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوں گے کہ جن کی سازشوں سے اب ہماری جیب خالی ہے وہ اپنے ہاتھ جیبوں میں کہیں ڈالے پڑے ہوں گے ہماری عمر مکڑی ہے ہمیں ...

    مزید پڑھیے

    کوئی نہیں ہے دیکھنے والا تو کیا ہوا

    کوئی نہیں ہے دیکھنے والا تو کیا ہوا تیری طرف نہیں ہے اجالا تو کیا ہوا چاروں طرف ہواؤں میں اس کی مہک تو ہے مرجھا رہی ہے سانس کی مالا تو کیا ہوا بدلے میں تجھ کو دے تو گئے بھوک اور پیاس منہ سے جو تیرے چھینا نوالہ تو کیا ہوا آنکھوں سے پی رہا ہوں ترے پیار کی شراب گر چھٹ گیا ہے ہاتھ سے ...

    مزید پڑھیے

    وہ مری راتیں مری آنکھوں میں آ کر لے گئی

    وہ مری راتیں مری آنکھوں میں آ کر لے گئی یاد تیری چور تھی نیندیں چرا کر لے گئی زندگی کی ڈائری میں ایک ہی تو گیت تھا کوئی میٹھی دھن اسے بھی گنگنا کر لے گئی سردیوں کی گنگنی سی دھوپ کے احساس تک میرے من کی چاندنی مجھ کو بلا کر لے گئی ایک خوشبو سا میں اپنی پنکھڑی میں بند تھا آئی اک ...

    مزید پڑھیے

    دل میں جو زخم ہے ان کو بھی ٹٹولے کوئی

    دل میں جو زخم ہے ان کو بھی ٹٹولے کوئی اب یہ چاہت ہے کبھی پیار سے بولے کوئی دیکھنا یہ ہے کہ پگھلتا ہے کہاں تک پتھر دل میں بھڑکا تو گیا پیار کے شعلے کوئی میں نے خاص اشکوں کو موتی کی طرح رکھا ہے ان کو احساس کے دھاگے میں پرو لے کوئی شعر دنیا کے تو کچھ دیر کو گونگا ہو جا موند کر آنکھ ...

    مزید پڑھیے

    سانسوں کی ٹوٹی سرگم میں اک میٹھا سور یاد رہا

    سانسوں کی ٹوٹی سرگم میں اک میٹھا سور یاد رہا یوں تو سب کچھ بھول گیا میں پر تیرا گھر یاد رہا یوں بھی کوئی ملنا ہے جو ملنے کی گھڑیوں میں بھی ملنے سے پہلے اس ظالم دنیا کا ڈر یاد رہا ورنہ میں بھی جھک ہی جاتا ظلم کی اندھی چوکھٹ پر اچھا رہا کہ مجھ کو اپنے شاعر کا سر یاد رہا ہونٹوں سے ...

    مزید پڑھیے

    کرو ہم کو نہ شرمندہ بڑھو آگے کہیں بابا

    کرو ہم کو نہ شرمندہ بڑھو آگے کہیں بابا ہمارے پاس آنسو کے سوا کچھ بھی نہیں بابا کٹورا ہی نہیں ہے ہاتھ میں بس فرق اتنا ہے جہاں بیٹھے ہوئے ہو تم کھڑے ہم بھی وہیں بابا تمہاری ہی طرح ہم بھی رہے ہیں آج تک پیاسے نہ جانے دودھ کی ندیاں کدھر ہو کر بہیں بابا صفائی تھی سچائی تھی پسینے کی ...

    مزید پڑھیے

    عمر بھر کچھ اس طرح ہم جاگتے سوتے رہے

    عمر بھر کچھ اس طرح ہم جاگتے سوتے رہے بھیڑ میں ہنستے رہے تنہائی میں روتے رہے روشنی کی تھی کہاں فرصت جو وہ یہ سوچتی کیسے کیسے اس کی خاطر ہم ہون ہوتے رہے دھوپ کی فصلیں اگیں گی یہ ہمیں معلوم تھا پھر بھی ہم سب کے دلوں میں چاندنی بوتے رہے سارے بوجھوں کو بڑا اچرج ہے کیسے ہم انہیں پھول ...

    مزید پڑھیے

    دو چار بار ہم جو کبھی ہنس ہنسا لئے

    دو چار بار ہم جو کبھی ہنس ہنسا لئے سارے جہاں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لئے رہتے ہمارے پاس تو یہ ٹوٹتے ضرور اچھا کیا جو اپنے سپنے چرا لئے چاہا تھا ایک پھول نے تڑپیں اسی کے پاس ہم نے خوشی سے پیڑوں میں کانٹے بچھا لئے آنکھوں میں آئے اشک نے آنکھوں سے یہ کہا اب روکو یا گراؤ ہمیں ہم تو آ ...

    مزید پڑھیے

    دل پہ مشکل ہے بہت دل کی کہانی لکھنا

    دل پہ مشکل ہے بہت دل کی کہانی لکھنا جیسے بہتے ہوئے پانی پہ ہو پانی لکھنا کوئی الجھن ہی رہی ہوگی جو وہ بھول گیا میرے حصے میں کوئی شام سہانی لکھنا آتے جاتے ہوئے موسم سے الگ رہ کے ذرا اب کے خط میں تو کوئی بات پرانی لکھنا کچھ بھی لکھنے کا ہنر تجھ کو اگر مل جائے عشق کو اشکوں کے دریا ...

    مزید پڑھیے

    بڑھ رہی ہے دل کی دھڑکن آندھیوں دھیرے چلو

    بڑھ رہی ہے دل کی دھڑکن آندھیوں دھیرے چلو پھر کوئی ٹوٹے نہ درپن آندھیوں دھیرے چلو یہ چمن سارا کا سارا آج کل خطرے میں ہے ہر طرف ہے آگ دشمن آندھیوں دھیرے چلو ایک یگ کے بعد بادل کا نیا آنچل ملا خوش بہت ہے آج ساون آندھیوں دھیرے چلو لکھ رہی ہے خوشبوؤں کو خط کمل کی پنکھڑی کھل اٹھا ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2