تمہارے جسم جب جب دھوپ میں کالے پڑے ہوں گے
تمہارے جسم جب جب دھوپ میں کالے پڑے ہوں گے ہماری بھی غزل کے پاؤں میں چھالے پڑے ہوں گے اگر آنکھوں پہ گہری نیند کے تالے پڑے ہوں گے تو کچھ خوابوں کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوں گے کہ جن کی سازشوں سے اب ہماری جیب خالی ہے وہ اپنے ہاتھ جیبوں میں کہیں ڈالے پڑے ہوں گے ہماری عمر مکڑی ہے ہمیں ...