کنور بے چین کے تمام مواد

20 غزل (Ghazal)

    پیاسے ہونٹوں سے جب کوئی جھیل نہ بولی بابو جی

    پیاسے ہونٹوں سے جب کوئی جھیل نہ بولی بابو جی ہم نے اپنے ہی آنسو سے آنکھ بھگو لی بابو جی پھر کوئی کالا سپنا تھا پلکوں کے دروازوں پر ہم نے یوں ہی ڈر کے مارے آنکھ نہ کھولی بابو جی بھولے سے جانے انجانے وار نہ کرنا تم ان پر جن جن کے کندھوں پر ہے یہ پریت کی ڈولی بابو جی یہ مت پوچھو اس ...

    مزید پڑھیے

    ہم سے مت پوچھو کہ اک وہ چیز کیا دونوں میں ہے

    ہم سے مت پوچھو کہ اک وہ چیز کیا دونوں میں ہے جو ملاتا ہے ہمیں وہ فاصلہ دونوں میں ہے اس کے ملنے کی خوشی ہو یا بچھڑ جانے کا غم ہوش رہتا ہی نہیں ایسا نشہ دونوں میں ہے اس کی آنکھیں کان ہیں اور میری آنکھیں بھی ہیں ہونٹ اپنی اپنی کہنے سننے کی ادا دونوں میں ہے گیت کے سانچے میں ڈھالوں یا ...

    مزید پڑھیے

    جب میرے گھر کے پاس کہیں بھی نگر نہ تھا

    جب میرے گھر کے پاس کہیں بھی نگر نہ تھا تو اس طرح کا راہ میں لٹنے کا ڈر نہ تھا جنگل میں جنگلوں کی طرح کا سفر نہ تھا صورت میں آدمی کی کوئی جانور نہ تھا آنسو سا گر کے آنکھ سے میں سوچتا رہا اتنا تو اپنے آپ سے میں بے خبر نہ تھا اک بار خود کو غور سے دیکھا تو یہ ملا میں صرف ایک دھڑ تھا مرے ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں سے جب یہ خواب سنہرے اتر گئے

    آنکھوں سے جب یہ خواب سنہرے اتر گئے ہم دل میں اپنے اور بھی گہرے اتر گئے سانپوں نے من کی بین کو کاٹا ہے اس طرح تھے اس کے پاس جتنے بھی لہرے اتر گئے لائے ہیں وہ ہی آگ کے موتی بٹور کر جو آنسوؤں کی برف میں گہرے اتر گئے لوگوں کے درد و غم بھی سیاست کے ذہن میں جھنڈوں سے ایک دن کو ہی پھہرے ...

    مزید پڑھیے

    اس وقت اپنے تیور پورے شباب پر ہیں

    اس وقت اپنے تیور پورے شباب پر ہیں سارے جہاں سے کہہ دو ہم انقلاب پر ہیں ہم کو ہماری نیندیں اب چھو نہیں سکیں گی جس تک نہ نیند پہنچے اس ایک خواب پر ہیں ان قاتلوں کے چہرے اب تو اگھاریے گا تازہ لہو کے دھبے جن کے نقاب پر ہیں اپنی لڑائی ہے تو کیول اسی محل سے اپنے لہو کی بوندیں جس کے ...

    مزید پڑھیے

تمام

3 نظم (Nazm)

    دن دیونگت ہوئے

    روز آنسو بہے روز آہت ہوئے رات گھائل ہوئی دن دیونگت ہوئے ہم جنہیں ہر گھڑی یاد کرتے رہے رکت من میں نئی پیاس بھرتے رہے روز جن کے ہردے میں اترتے رہے وے سبھی دن چتا کی لپٹ پر رکھے روز جلتے ہوئے آخری خط ہوئے دن دیونگت ہوئے شیش پر سوریہ کو جو سنبھالے رہے نین میں جیوتی کا دیپ بالے رہے اور ...

    مزید پڑھیے

    بکے ابھاووں کے ہاتھوں

    من بیچارہ ایک وچن لیکن درد ہزار گنے چاندی کی چمچ لے کر جنمے نہیں ہمارے دن اندھیاری راتوں کے گھر رہ آئے بھاوک‌ پل چھن چندا سے سو باتیں کیں سورج نے جب گھاتیں کیں کنتو ایک نکار گہ میں طوطی کی دھونی کون سنے بکے ابھاووں کے ہاتھوں سپنے کھیل بتاشوں کے بھرے نکیلے شولوں سے آنگن کھیل ...

    مزید پڑھیے

    گیت کے جتنے کفن ہیں

    زندگی کی لاش ڈھکنے کے لیے گیت کے جتنے کفن ہیں ہیں بہت چھوٹے رات کی پرتیما سودھاکر نے چھوئی پیر یہ پھر سے ستاروں سی ہوئی آنکھ کا آکاش ڈھکنے کے لیے پریت کے جتنے سپن ہیں ہیں بہت چھوٹے کھوج میں ہو جو لرزتی چھاؤں کی درد پگڈنڈی نہیں اس گاؤں کی پیر کا اپہاس ڈھکنے کے لیے اشرو کے جتنے رتن ...

    مزید پڑھیے