دن دیونگت ہوئے
روز آنسو بہے روز آہت ہوئے رات گھائل ہوئی دن دیونگت ہوئے ہم جنہیں ہر گھڑی یاد کرتے رہے رکت من میں نئی پیاس بھرتے رہے روز جن کے ہردے میں اترتے رہے وے سبھی دن چتا کی لپٹ پر رکھے روز جلتے ہوئے آخری خط ہوئے دن دیونگت ہوئے شیش پر سوریہ کو جو سنبھالے رہے نین میں جیوتی کا دیپ بالے رہے اور ...