کنور بے چین کی نظم

    دن دیونگت ہوئے

    روز آنسو بہے روز آہت ہوئے رات گھائل ہوئی دن دیونگت ہوئے ہم جنہیں ہر گھڑی یاد کرتے رہے رکت من میں نئی پیاس بھرتے رہے روز جن کے ہردے میں اترتے رہے وے سبھی دن چتا کی لپٹ پر رکھے روز جلتے ہوئے آخری خط ہوئے دن دیونگت ہوئے شیش پر سوریہ کو جو سنبھالے رہے نین میں جیوتی کا دیپ بالے رہے اور ...

    مزید پڑھیے

    بکے ابھاووں کے ہاتھوں

    من بیچارہ ایک وچن لیکن درد ہزار گنے چاندی کی چمچ لے کر جنمے نہیں ہمارے دن اندھیاری راتوں کے گھر رہ آئے بھاوک‌ پل چھن چندا سے سو باتیں کیں سورج نے جب گھاتیں کیں کنتو ایک نکار گہ میں طوطی کی دھونی کون سنے بکے ابھاووں کے ہاتھوں سپنے کھیل بتاشوں کے بھرے نکیلے شولوں سے آنگن کھیل ...

    مزید پڑھیے

    گیت کے جتنے کفن ہیں

    زندگی کی لاش ڈھکنے کے لیے گیت کے جتنے کفن ہیں ہیں بہت چھوٹے رات کی پرتیما سودھاکر نے چھوئی پیر یہ پھر سے ستاروں سی ہوئی آنکھ کا آکاش ڈھکنے کے لیے پریت کے جتنے سپن ہیں ہیں بہت چھوٹے کھوج میں ہو جو لرزتی چھاؤں کی درد پگڈنڈی نہیں اس گاؤں کی پیر کا اپہاس ڈھکنے کے لیے اشرو کے جتنے رتن ...

    مزید پڑھیے