کنور بے چین کی غزل

    پیاسے ہونٹوں سے جب کوئی جھیل نہ بولی بابو جی

    پیاسے ہونٹوں سے جب کوئی جھیل نہ بولی بابو جی ہم نے اپنے ہی آنسو سے آنکھ بھگو لی بابو جی پھر کوئی کالا سپنا تھا پلکوں کے دروازوں پر ہم نے یوں ہی ڈر کے مارے آنکھ نہ کھولی بابو جی بھولے سے جانے انجانے وار نہ کرنا تم ان پر جن جن کے کندھوں پر ہے یہ پریت کی ڈولی بابو جی یہ مت پوچھو اس ...

    مزید پڑھیے

    ہم سے مت پوچھو کہ اک وہ چیز کیا دونوں میں ہے

    ہم سے مت پوچھو کہ اک وہ چیز کیا دونوں میں ہے جو ملاتا ہے ہمیں وہ فاصلہ دونوں میں ہے اس کے ملنے کی خوشی ہو یا بچھڑ جانے کا غم ہوش رہتا ہی نہیں ایسا نشہ دونوں میں ہے اس کی آنکھیں کان ہیں اور میری آنکھیں بھی ہیں ہونٹ اپنی اپنی کہنے سننے کی ادا دونوں میں ہے گیت کے سانچے میں ڈھالوں یا ...

    مزید پڑھیے

    جب میرے گھر کے پاس کہیں بھی نگر نہ تھا

    جب میرے گھر کے پاس کہیں بھی نگر نہ تھا تو اس طرح کا راہ میں لٹنے کا ڈر نہ تھا جنگل میں جنگلوں کی طرح کا سفر نہ تھا صورت میں آدمی کی کوئی جانور نہ تھا آنسو سا گر کے آنکھ سے میں سوچتا رہا اتنا تو اپنے آپ سے میں بے خبر نہ تھا اک بار خود کو غور سے دیکھا تو یہ ملا میں صرف ایک دھڑ تھا مرے ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں سے جب یہ خواب سنہرے اتر گئے

    آنکھوں سے جب یہ خواب سنہرے اتر گئے ہم دل میں اپنے اور بھی گہرے اتر گئے سانپوں نے من کی بین کو کاٹا ہے اس طرح تھے اس کے پاس جتنے بھی لہرے اتر گئے لائے ہیں وہ ہی آگ کے موتی بٹور کر جو آنسوؤں کی برف میں گہرے اتر گئے لوگوں کے درد و غم بھی سیاست کے ذہن میں جھنڈوں سے ایک دن کو ہی پھہرے ...

    مزید پڑھیے

    اس وقت اپنے تیور پورے شباب پر ہیں

    اس وقت اپنے تیور پورے شباب پر ہیں سارے جہاں سے کہہ دو ہم انقلاب پر ہیں ہم کو ہماری نیندیں اب چھو نہیں سکیں گی جس تک نہ نیند پہنچے اس ایک خواب پر ہیں ان قاتلوں کے چہرے اب تو اگھاریے گا تازہ لہو کے دھبے جن کے نقاب پر ہیں اپنی لڑائی ہے تو کیول اسی محل سے اپنے لہو کی بوندیں جس کے ...

    مزید پڑھیے

    خود کو نظر کے سامنے لا کر غزل کہو

    خود کو نظر کے سامنے لا کر غزل کہو اس دل میں کوئی درد بٹھا کر غزل کہو اب تک تو مے کدوں پہ ہی تم نے غزل کہی ہونٹوں سے اب یہ جام ہٹا کر غزل کہو محفل میں آج شمع جلانے کے دن گئے تاریکیوں میں دل کو جلا کر غزل کہو غزلیں بھی آدمی کی عبادت ہیں دوستو اس عشق کی ندی میں نہا کر غزل کہو رہ تو ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں میں جو ہماری یہ جالوں کے داغ ہیں

    آنکھوں میں جو ہماری یہ جالوں کے داغ ہیں یہ تو ہمارے اپنے خیالوں کے داغ ہیں میری ہتھیلیوں پہ جو مہندی سے رچ گئے یہ آنسوؤں میں بھیگے رومالوں کے داغ ہیں باہر نکل کے جسم سے جاؤں تو کس طرح سانکل کہیں کہیں پہ یہ تالوں کے داغ ہیں تم جن کو کہہ رہے ہو مرے قدموں کے نشاں وہ سب تو میرے پاؤں ...

    مزید پڑھیے

    اس طرح مل کہ ملاقات ادھوری نہ رہے

    اس طرح مل کہ ملاقات ادھوری نہ رہے زندگی دیکھ کوئی بات ادھوری نہ رہے بادلوں کی طرح آئے ہو تو کھل کر برسو دیکھو اس بار کی برسات ادھوری نہ رہے میرا ہر اشک چلا آیا براتی بن کر جس سے یہ درد کی بارات ادھوری نہ رہے پاس آ جانا اگر چاند کبھی چھپ جائے میرے جیون کی کوئی رات ادھوری نہ ...

    مزید پڑھیے

    سانچے میں ہم نے اور کے ڈھلنے نہیں دیا

    سانچے میں ہم نے اور کے ڈھلنے نہیں دیا دل موم کا تھا پھر بھی پگھلنے نہیں دیا ہاتھوں کی اوٹ دے کے جلا لیں ہتھیلیاں اے شمع تجھ کو ہم نے مچلنے نہیں دیا دنیا نے بہت چاہا کہ دل جانور بنے میں نے ہی اس کو جسم بدلنے نہیں دیا ضد یہ تھی وہ جلے گا تمہارے ہی ہاتھ سے اس ضد نے ایک چراغ کو جلنے ...

    مزید پڑھیے

    گگن میں جب اپنا ستارہ نہ دیکھا

    گگن میں جب اپنا ستارہ نہ دیکھا تو جینے کا کوئی سہارا نہ دیکھا نظر ہے، مگر وہ نظر کیا کہ جس نے خود اپنی نظر کا نظارہ نہ دیکھا بھلے وہ ڈبائے ابھارے کہ ہم نے بھنور دیکھ لی تو کنارہ نہ دیکھا وہ بس نام کا آئنہ ہے کہ جس نے کبھی حسن کو خود سنوارا نہ دیکھا تمہیں جب سے دیکھا، تمہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2