Kumar Panipati

کمار پانی پتی

کمار پانی پتی کی غزل

    مرے دل کو سپرد غم نہ کرنا

    مرے دل کو سپرد غم نہ کرنا مرے احساس پر پتھر نہ دھرنا مرے جینے کی اپنی ہی ادا ہے مجھے معلوم ہے ہنس ہنس کے مرنا مری سانسوں میں بھی کچھ زہر سا ہے مرے نزدیک سے بچ کر گزرنا مجھے اپنوں نے وہ دھوکے دئے ہیں مجھے آتا نہیں غیروں سے ڈرنا وفا کی آڑ میں لوٹا گیا ہوں بہت مشکل ہے اب میرا ...

    مزید پڑھیے

    بے بسی زندگی کی آس میں ہے

    بے بسی زندگی کی آس میں ہے کیا بتاؤں کہ کیا گلاس میں ہے زخم یادوں کے خوں امیدوں کا جانے کیا کیا دل اداس میں ہے آج کس زہر سے بھروں اس کو وہ سمندر جو میری پیاس میں ہے ڈھک سکے جو کسی غریب کا تن پھول ایسا کوئی کپاس میں ہے خود خزاں پوچھتی ہے رہ رہ کر فصل گل آج کس لباس میں ہے

    مزید پڑھیے

    اک عمر کی امید کا انجام بس اک آہ

    اک عمر کی امید کا انجام بس اک آہ اس دور میں جینے کا ہے انعام بس اک آہ شاید کسی خوش بخت نے کچھ اور سنا ہو محسوس ہوئی ہم کو تو ہر گام بس اک آہ اک میں ہی نہیں تم بھی پریشان کھڑی ہو ہونٹوں پہ لئے اپنے سر بام بس اک آہ دنیا میں بہت کچھ ہے مگر یہ بھی تو سچ ہے لکھ دی ہے مقدر نے مرے نام بس اک ...

    مزید پڑھیے

    عہد نو کی سسکیوں کا ساز ہے میری غزل

    عہد نو کی سسکیوں کا ساز ہے میری غزل سوز میں ڈوبی ہوئی آواز ہے میری غزل زندگی کا نغمۂ صد ساز ہے میری غزل وقت کے ہر عکس کی غماز ہے میری غزل اس کی رگ رگ میں ہیں میری دھڑکنوں کی وسعتیں میرے ہر ہم راز کی ہم راز ہے میری غزل شیخ سعدیؔ سے نہیں مجھ کو کوئی نسبت مگر اہل فن کو دعوت شیراز ہے ...

    مزید پڑھیے