عہد نو کی سسکیوں کا ساز ہے میری غزل
عہد نو کی سسکیوں کا ساز ہے میری غزل
سوز میں ڈوبی ہوئی آواز ہے میری غزل
زندگی کا نغمۂ صد ساز ہے میری غزل
وقت کے ہر عکس کی غماز ہے میری غزل
اس کی رگ رگ میں ہیں میری دھڑکنوں کی وسعتیں
میرے ہر ہم راز کی ہم راز ہے میری غزل
شیخ سعدیؔ سے نہیں مجھ کو کوئی نسبت مگر
اہل فن کو دعوت شیراز ہے میری غزل
جو جدید اسلوب کو دے گی روایت کا شعور
اس نئی تحریک کا آغاز ہے میری غزل