بے بسی زندگی کی آس میں ہے

بے بسی زندگی کی آس میں ہے
کیا بتاؤں کہ کیا گلاس میں ہے


زخم یادوں کے خوں امیدوں کا
جانے کیا کیا دل اداس میں ہے


آج کس زہر سے بھروں اس کو
وہ سمندر جو میری پیاس میں ہے


ڈھک سکے جو کسی غریب کا تن
پھول ایسا کوئی کپاس میں ہے


خود خزاں پوچھتی ہے رہ رہ کر
فصل گل آج کس لباس میں ہے