اک عمر کی امید کا انجام بس اک آہ

اک عمر کی امید کا انجام بس اک آہ
اس دور میں جینے کا ہے انعام بس اک آہ


شاید کسی خوش بخت نے کچھ اور سنا ہو
محسوس ہوئی ہم کو تو ہر گام بس اک آہ


اک میں ہی نہیں تم بھی پریشان کھڑی ہو
ہونٹوں پہ لئے اپنے سر بام بس اک آہ


دنیا میں بہت کچھ ہے مگر یہ بھی تو سچ ہے
لکھ دی ہے مقدر نے مرے نام بس اک آہ


اے گلشن پر کیف کے بیتاب شگوفو
ہنستے ہوئے پھولوں کا ہے انجام بس اک آہ