Kumar Panipati

کمار پانی پتی

کمار پانی پتی کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    مرے دل کو سپرد غم نہ کرنا

    مرے دل کو سپرد غم نہ کرنا مرے احساس پر پتھر نہ دھرنا مرے جینے کی اپنی ہی ادا ہے مجھے معلوم ہے ہنس ہنس کے مرنا مری سانسوں میں بھی کچھ زہر سا ہے مرے نزدیک سے بچ کر گزرنا مجھے اپنوں نے وہ دھوکے دئے ہیں مجھے آتا نہیں غیروں سے ڈرنا وفا کی آڑ میں لوٹا گیا ہوں بہت مشکل ہے اب میرا ...

    مزید پڑھیے

    بے بسی زندگی کی آس میں ہے

    بے بسی زندگی کی آس میں ہے کیا بتاؤں کہ کیا گلاس میں ہے زخم یادوں کے خوں امیدوں کا جانے کیا کیا دل اداس میں ہے آج کس زہر سے بھروں اس کو وہ سمندر جو میری پیاس میں ہے ڈھک سکے جو کسی غریب کا تن پھول ایسا کوئی کپاس میں ہے خود خزاں پوچھتی ہے رہ رہ کر فصل گل آج کس لباس میں ہے

    مزید پڑھیے

    اک عمر کی امید کا انجام بس اک آہ

    اک عمر کی امید کا انجام بس اک آہ اس دور میں جینے کا ہے انعام بس اک آہ شاید کسی خوش بخت نے کچھ اور سنا ہو محسوس ہوئی ہم کو تو ہر گام بس اک آہ اک میں ہی نہیں تم بھی پریشان کھڑی ہو ہونٹوں پہ لئے اپنے سر بام بس اک آہ دنیا میں بہت کچھ ہے مگر یہ بھی تو سچ ہے لکھ دی ہے مقدر نے مرے نام بس اک ...

    مزید پڑھیے

    عہد نو کی سسکیوں کا ساز ہے میری غزل

    عہد نو کی سسکیوں کا ساز ہے میری غزل سوز میں ڈوبی ہوئی آواز ہے میری غزل زندگی کا نغمۂ صد ساز ہے میری غزل وقت کے ہر عکس کی غماز ہے میری غزل اس کی رگ رگ میں ہیں میری دھڑکنوں کی وسعتیں میرے ہر ہم راز کی ہم راز ہے میری غزل شیخ سعدیؔ سے نہیں مجھ کو کوئی نسبت مگر اہل فن کو دعوت شیراز ہے ...

    مزید پڑھیے