Krishna Kumar Toor

کرشن کمار طورؔ

ممتاز جدید شاعر۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the prominent modern poets, recipient of Sahitya Academy award.

کرشن کمار طورؔ کی غزل

    اک خالی چاند ہی لب جو رکھنا تھا

    اک خالی چاند ہی لب جو رکھنا تھا اس کے ہجر کا یہ بھی پہلو رکھنا تھا سب کا دامن موتیوں سے بھرنے والے میری آنکھ میں بھی اک آنسو رکھنا تھا سورج کرنا تھا میری پیشانی کو اس مٹی میں یہ بھی جادو رکھنا تھا کس کی آنکھیں کہاں کی آنکھیں حرف ہوئیں پتھر تھے تو خود پر قابو رکھنا تھا کیا تھا ...

    مزید پڑھیے

    لفظوں میں اثر کہاں سے آیا

    لفظوں میں اثر کہاں سے آیا رستے میں یہ گھر کہاں سے آیا میں ہجر میں مسکرا رہا ہوں مجھ میں یہ ہنر کہاں سے آیا اک آگ سی اب لگی ہوئی ہے پانی میں اثر کہاں سے آیا نیزوں پہ سروں کو دیکھتا ہوں دیوار میں در کہاں سے آیا لو دینے لگے ہیں خاک داں بھی مٹی میں اثر کہاں سے آیا اب میں کیا بتاؤں ...

    مزید پڑھیے

    ایک دیا دہلیز پہ رکھا بھول گیا

    ایک دیا دہلیز پہ رکھا بھول گیا گھر کو لوٹ کے آنے والا بھول گیا یہ کیسی بے آب زمیں کا سامنا تھا خود کو قطرہ قطرے کو دریا بھول گیا میں تو تھا موجود کتاب کے لفظوں میں وہ ہی شاید مجھ کو پڑھنا بھول گیا کس کے جسم کی بارش نے سیراب کیا کیوں اڑنا موسم کا پرندہ بھول گیا آخر یہ ہونا تھا ...

    مزید پڑھیے

    کتاب عشق میں سارا بیاں وصال کا ہے

    کتاب عشق میں سارا بیاں وصال کا ہے میں زندہ ہجر میں ہوں اور گماں وصال کا ہے ہم ایسے فرق تعلق سے خود بھی حیراں ہیں زمیں ہے ہجر کی اور آسماں وصال کا ہے عجب تضاد کے پیش نظر ہوں ہستی میں ہے دھوپ ہجر کی اور سائباں وصال کا ہے ہے جاگنے پہ ہی پڑتا تمام چابک ہجر ہوں آنکھیں بند تو سارا سماں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 4