اک خالی چاند ہی لب جو رکھنا تھا
اک خالی چاند ہی لب جو رکھنا تھا اس کے ہجر کا یہ بھی پہلو رکھنا تھا سب کا دامن موتیوں سے بھرنے والے میری آنکھ میں بھی اک آنسو رکھنا تھا سورج کرنا تھا میری پیشانی کو اس مٹی میں یہ بھی جادو رکھنا تھا کس کی آنکھیں کہاں کی آنکھیں حرف ہوئیں پتھر تھے تو خود پر قابو رکھنا تھا کیا تھا ...