Krishna Kumar Toor

کرشن کمار طورؔ

ممتاز جدید شاعر۔ ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

One of the prominent modern poets, recipient of Sahitya Academy award.

کرشن کمار طورؔ کی غزل

    یہ در یہ طاق یہ چوکھٹ یہ گھر ملال کا ہے

    یہ در یہ طاق یہ چوکھٹ یہ گھر ملال کا ہے سفر میں جتنا ہے زاد سفر ملال کا ہے میں کیسی ساعت بد بخت میں مقید ہوں دعا خوشی کی ہے ظاہر اثر ملال کا ہے رکی ہوئی ہے حیات اک عجب دوراہے پر ادھر ہنسی کا اجارہ ادھر ملال کا ہے سجائے رکھا ہے ہم کو انا کی سولی پر کوئی اگر ہے تو بس یہ ہنر ملال کا ...

    مزید پڑھیے

    موجود جو تھا معدوم سمجھ میں آیا

    موجود جو تھا معدوم سمجھ میں آیا اک الٹا ہی مفہوم سمجھ میں آیا میں جب پیڑ سے گر کے زمیں کی خاک ہوا تب اک عالم موہوم سمجھ میں آیا میں ہی میں ہوں آنکھ اٹھتی ہے جدھر بھی اب نا معلوم بھی معلوم سمجھ میں آیا الٹے منتر ہی شاید میں پڑھتا ہوں جو ظاہر تھا معدوم سمجھ میں آیا زیست کو میں اک ...

    مزید پڑھیے

    میں منظر ہوں پس منظر سے میرا رشتہ بہت

    میں منظر ہوں پس منظر سے میرا رشتہ بہت آخر میری پیشانی پر سورج چمکا بہت جانے کون سے اسم انا کے ہم زندانی تھے تیرے نام کو لے کر ہم نے خدا کو چاہا بہت ان سے کیا رشتہ تھا وہ کیا میرے لگتے تھے گرنے لگے جب پیڑ سے پتے تو میں رویا بہت کیسی مسافت سامنے تھی اور سفر تھا کیسا لہو میں نے اس کو ...

    مزید پڑھیے

    دشت میں پہلے وہ سمندر چمکاتا ہے

    دشت میں پہلے وہ سمندر چمکاتا ہے تب پھر سینے میں خنجر چمکاتا ہے بھیڑ سے وہ کرتا ہے مجھے کچھ ایسے جدا بر نیزے پر میرا سر چمکاتا ہے بھید کھولتا ہے وہ یوں اپنے ہونے کا ہر آنے والے کا گھر چمکاتا ہے دیکھوں وہ کب کرتا ہے زنگ انا کافور دیکھوں وہ کب میرا اندر چمکاتا ہے ورنہ کیا مٹی کیا ...

    مزید پڑھیے

    میں کس سے کرتا یہاں گفتگو کوئی بھی نہ تھا

    میں کس سے کرتا یہاں گفتگو کوئی بھی نہ تھا نہیں تھا میرے مقابل جو تو کوئی بھی نہ تھا یہ عجز ذات تھا یا ارتفاع حسن نظر کبھی کبھی تو مرے چار سو کوئی بھی نہ تھا عجیب اس کی ہے محفل کہ اس کی محفل میں پر امتیاز تھے سب سرخ رو کوئی بھی نہ تھا میں کیا بتاؤں کہ اس خاک سے ہوں وابستہ زمین دل ...

    مزید پڑھیے

    اک اعتماد عجب سا یقیں پہ رکھتا ہوں

    اک اعتماد عجب سا یقیں پہ رکھتا ہوں وہ کیا ہے میں جسے اپنی جبیں پہ رکھتا ہوں یہی تو بات ہوئی جا رہی ہے میرے خلاف کہیں پہ ملتی ہے اک شے کہیں پہ رکھتا ہوں جو چیز دیکھنے کی ہے وہ بار بار رہے میں اس طرح کا تماشہ زمیں پہ رکھتا ہوں غبار ہوتی ہوئی جا رہی ہے یہ دنیا ہے ہاں کا شائبہ جس کو ...

    مزید پڑھیے

    بھلا کہاں کسے ممکن ہے یہ ادا ہر بار

    بھلا کہاں کسے ممکن ہے یہ ادا ہر بار چراغ رکھتا ہے لو پر دم ہوا ہر بار تو اپنے ہاتھوں کی ٹھنڈک سے کر مجھے مانوس تو میری آنکھوں پہ رکھ شعلۂ حنا ہر بار کبھی تو میرے لہو کے نشاں بنیں گے پھول میں غم کے دشت سے گزرا برہنہ پا ہر بار یہ میری ذات سے نسبت ہوئی ہے اب کس کو میں خود کو دیکھتا ...

    مزید پڑھیے

    روپ کا رسیا سکھ کا کھوجی دل ہے وہ بالک نادان

    روپ کا رسیا سکھ کا کھوجی دل ہے وہ بالک نادان در در گھومے بنا بھکاری مانگے خوشیوں کا دان جلتی بجھتی شمعوں سے پوچھو رات کے سینے کا درد اڑتے پکھیرو بتلائیں گے سورج کی ہر مسکان کون چکھے یہ پان کا بیڑا کون چڑھائے چلا نس نس ٹوٹ ٹوٹ رہ جائے جیون وہ کڑی کمان اس کا جسم ہے جیسے ہوا میں ...

    مزید پڑھیے

    نہ اس کو دیکھا نہ تاب و تواں روانہ کئے

    نہ اس کو دیکھا نہ تاب و تواں روانہ کئے تمام عمر کٹی مٹی میں ٹھکانا کئے نہ اس سے وصل کیا اور نہ ہا و ہو ہی کی زمانہ گزرا کوئی کار عارفانہ کئے دلوں کو زخم دئے اور عذاب آنکھوں کو جو کام اس نے کئے سارے منصفانہ کئے میں اپنے آپ کو پہچانتا نہیں ہوں ابھی میں آنکھ موند کے لیٹا ہوں یہ ...

    مزید پڑھیے

    میں وہم ہوں کہ حقیقت یہ حال دیکھنے کو

    میں وہم ہوں کہ حقیقت یہ حال دیکھنے کو گرفت ہوتا ہوں اپنا وصال دیکھنے کو چراغ کرتا ہوں اپنا ہر ایک عضو بدن ترس گیا ہوں غم لا زوال دیکھنے کو یہ آدمی ہیں کہ پتھر جواب دیتے نہیں چلے ہیں کوہ ندا سے سوال دیکھنے کو نہ شعر ہیں نہ ستائش عجب زمانہ ہے کہیں پہ ملتا نہیں اب کمال دیکھنے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4